سیرت طیبہ — Page 42
۴۲ شفقت على خلق اللہ اب میں خدا کے فضل سے اپنے اس مضمون کے تیسرے حصہ کی طرف آتا ہوں جو شفقت علی خلق اللہ سے تعلق رکھتا ہے۔میں نے اس مختصر سے مقالہ کے لئے (اول) محبت الہی اور ( دوم ) عشق رسول اور ( سوم ) شفقت علی خلق اللہ کے عنوان اس لئے منتخب کئے ہیں کہ یہ ہمارے دین اور مذہب کا خلاصہ اور ایک مسلمان کے ایمان و اخلاق کا مرکزی نقطہ ہیں حتی کہ ایک مامور من اللہ کی روحانیت اور اس کے اخلاق و کردار اور اس کی قدر و منزلت کو پہچاننے کے لئے بھی اس سے بڑھ کر کوئی اور کسوٹی نہیں۔منبع حیات یعنی ذات باری تعالیٰ کے ساتھ گہرا پیوند ہو۔پیغام الہی کے لانے والے رسول کی محبت روح کی غذا ہو اور مخلوق خدا کی ہمدردی کا جذبہ دل میں کوٹ کوٹ کر بھرا ہو۔بس ہمیں آمدنشان کا ملاں“ (1) میں نہایت اختصار کے ساتھ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے جذبہ محبت الہی اور عشق رسول کے متعلق بیان کر چکا ہوں اب مختصر طور پر آپ کے جذ بہ شفقت علی خلق اللہ کے متعلق کچھ بیان کرتا ہوں۔اس تعلق میں سب سے پہلے میرے سامنے وہ مقدس عہد آتا ہے جو حضرت مسیح موعود علیہ السلام خدائی حکم کے ماتحت ہر بیعت کرنے