سیرت طیبہ — Page 23
۲۳ تیری وفات کی وجہ سے اندھی ہوگئی ہے۔اب تیرے بعد جو چاہے مرے مجھے تو صرف تیری موت کا ڈر تھا جو واقع ہو گئی۔“ راوی کا بیان ہے کہ جب میں نے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کو اس طرح روتے ہوئے دیکھا اور اس وقت آپ مسجد میں بالکل اکیلے ٹہل رہے تھے تو میں نے گھبرا کر عرض کیا کہ حضرت ! یہ کیا معاملہ ہے اور حضور کو کون سا صدمہ پہنچا ہے؟ حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے فرمایا میں اس وقت حسان بن ثابت کا یہ شعر پڑھ رہا تھا اور میرے دل میں یہ آرزو پیدا ہورہی تھی کہ کاش یہ شعر میری زبان سے نکلتا۔“ دنیا جانتی ہے کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام پر سخت سے سخت زمانے آئے ہر قسم کی تنگی دیکھی۔طرح طرح کے مصائب برداشت کئے حوادث کی آندھیاں سر سے گذریں۔مخالفوں کی طرف سے انتہائی تلخیوں اور ایذاؤں کا مزا چکھا۔حتی کہ قتل کے سازشی مقدمات میں سے بھی گزرنا پڑا۔بچوں اور عزیزوں اور دوستوں اور اپنے فدائیوں کی موت کے نظارے بھی دیکھے مگر کبھی آپ کی آنکھوں نے آپ کے قلبی جذبات کی غمازی نہیں کی لیکن علیحدگی میں اپنے آقا رسول مقبول صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات کے متعلق ( اور وفات بھی وہ جس پر تیرہ سو سال گذر چکے تھے ) یہ محبت کا شعر یاد کرتے ہوئے آپ کی آنکھیں سیلاب کی طرح بہہ نکلیں اور آپ کی یہ قلبی حسرت چھلک کر باہر آگئی۔کہ کاش یہ شعر میری زبان سے نکلتا !! اس سے یہ نہیں سمجھنا چاہیے کہ حضرت حسان کا یہ شعر محبت رسول کے اظہار میں ہر دوسرے کلام پر فائق ہے بلکہ مراد یہ ہے کہ حضرت مسیح موعود کے دل میں عشق رسول کے کمال کی وجہ سے ہر غیر معمولی اظہار محبت کے موقعہ پر یہ خواہش پیدا ہوتی تھی کہ کاش یہ الفاظ بھی میری ہی