سیرت طیبہ — Page 258
۲۵۸ اُس شخص نے اپنا نام پیغمبر اسنگھے اس لئے رکھا ہوا تھا کہ احمدی ہونے سے پہلے اُس کا دعویٰ تھا کہ وہ سکھوں کا گرو یا اوتار ہے مگر جب اللہ تعالیٰ نے اُس پر حقیقت کھول دی تو اُس نے حضرت مسیح موعود کی خدمت میں حاضر ہو کر حضور کے قدموں میں اپنے دل کی راحت پائی (حیاتِ احمد جلد سوم ص ۲۱۰) یہ پیغمبر اسنگھ ایک بھاری بھر کم جسم کا انسان تھا اور احمدی ہونے کے بعد حضرت مسیح موعود کے ساتھ بڑا اخلاص رکھتا تھا اور اکثر اوقات حضور کی محبت اور تعریف میں شعر گا تا پھرتا تھا اور کبھی کبھی تبلیغ کی غرض سے حضرت بابا نانک کے چولے کی طرح کا ایک چولہ بنا کر بھی پہنا کرتا تھا۔یہ اسی قسم کا لطیف خدائی انتقام ہے جیسا کہ خدا نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے جانی دشمن ابو جہل سے لیا تھا کہ اُس کی موت کے بعد اُس کا بیٹا عکرمہ آنحضرت کی غلامی میں داخل ہو گیا اور اسلام کی بھاری خدمات سرانجام دیتا ہوا شہید ہوا۔احمدیت میں خدا کے فضل سے ایسی مثالیں سینکڑوں بلکہ ہزاروں ہیں کہ باپ مخالف تھا مگر بیٹے کو احمدیت کا عاشق زار بننے کی سعادت نصیب ہوئی۔حضرت مسیح موعود نے تمثیلی رنگ میں کیا خوب فرمایا ہے کہ دد گه بصلحت کشند و گاه بجنگ“ ( براہین احمدیہ حصہ دوم روحانی خزائن جلد ۱ صفحه ۱۲۵) دو یعنی کبھی تو لوگ تجھے صلح کے ذریعہ شکار کرتے ہیں اور کبھی جنگ کے طریق پر مارتے ہیں۔“