سیرت طیبہ

by Hazrat Mirza Bashir Ahmad

Page 257 of 315

سیرت طیبہ — Page 257

۲۵۷ شاہ صاحب! جانے دیں اور اسے کچھ نہ کہیں۔یہ بے چارہ سمجھتا۔کہ ہم نے اس کا (مہدی والا ) عہدہ سنبھال لیا ہے۔“ ( حیات احمد مصنفه عرفانی صاحب جلد سوم ص ۲۱۰) شیخ یعقوب علی صاحب عرفانی بیان کرتے ہیں کہ اس کے بعد جب تک حضرت مسیح موعودا اپنی قیام گاہ تک نہیں پہنچ گئے حضور بار بار پیچھے کی طرف منہ کر کے دیکھتے جاتے تھے تا کہ کوئی شخص غصہ میں آکر اسے مار نہ بیٹھے اور تاکید فرماتے جاتے تھے کہ اسے کچھ نہ کہا جائے۔یہ وہی وسیع عفو و رحمت اور خاص جمالی شان ہے جس کے متعلق حضرت مسیح موعود اپنے ایک شعر میں فرماتے ہیں کہ گالیاں سن کے دعا دیتا ہوں ان لوگوں کو رحم ہے جوش میں اور غیظ گھٹا یا ہم نے لیکن خدائے غیور کی غیرت کا نظارہ دیکھو کہ حضرت مسیح موعود نے تو اس وحشیانہ حملہ کرنے والے کو معاف کر دیا اور اس کے ساتھ عفو ورحمت کا سلوک فرما یا مگر خدا نے اپنے محبوب مسیح کا انتقام لے لیا اور انتظام بھی ایسے رنگ میں لیا جو اسی کے شایانِ شان ہے۔چنانچہ عرفانی صاحب بیان کرتے ہیں کہ اس واقعہ کے بعد اُس حملہ کرنے والے شخص کا حقیقی بھائی جس کا نام پیغمبر اسنگھ تھا احمدی ہو گیا اور اخلاص میں اتنا ترقی کر گیا کہ اس نے حضرت مسیح موعود کی خدمت میں حاضر ہو کر نہ صرف اپنے بھائی کی طرف سے معافی مانگی بلکہ اُسی شہر لاہور کی ایک مجلس میں جہاں اس کے بھائی نے خدا کے مقدس مامور کی گستاخی کی تھی حضور پر محبت اور عقیدت کے ساتھ پھول برسائے۔