سیرت طیبہ

by Hazrat Mirza Bashir Ahmad

Page 221 of 315

سیرت طیبہ — Page 221

۲۲۱ کتنا پیارا اور کتنا دلکش ہے کہ اس نے ہر حالت میں سچے مسلمانوں کو مایوسی میں مبتلا ہونے سے بچایا ہے اور بظاہر غیر ممکن حالات میں بھی خدائی فضل و رحمت کا جھنڈا بلند رکھا ہے۔اللَّهُمَّ صَلِّ عَلَى مُحَمَّدٍ وَيَأَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا صَلُّوا عَلَيْهِ وَسَلِّمُوا تسليما - (19) حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی دعا کی قبولیت کا ایک اور غیر معمولی واقعہ بھی مجھے یاد آ گیا جو خود مجھ سے ایک احمدی دوست عطا محمد صاحب پٹواری نے عرصہ ہوا بیان کیا تھا۔منشی صاحب بیان کرتے تھے کہ میں دین کی طرف سے بالکل غافل اور بے بہرہ تھا بلکہ دین کی باتوں پر ہنسی اڑایا کرتا تھا۔شراب پیتا تھا اور رشوت بھی لیتا تھا۔اور جب میرے حلقہ کے بعض احمدی مجھے تبلیغ کرتے تو میں انہیں مذاق کیا کرتا تھا۔آخر جب ایک دن ایک احمدی دوست نے مجھے اپنی تبلیغ کے ذریعہ بہت تنگ کیا تو میں نے انہیں جواب دیا کہ میں تمہارے مرزا کو خط لکھ کر ایک بات کے متعلق دعا کراتا ہوں۔اگر میرا وہ کام ہو گیا تو میں سمجھوں گا کہ وہ بچے ہیں۔چنانچہ میں نے حضرت صاحب کی خدمت میں خط لکھا کہ آپ مسیح موعود اور ولی اللہ ہونے کا دعوی کرتے ہیں اور ولیوں کی دعائیں قبول ہوا کرتی ہیں میری اس وقت تین بیویاں ہیں اور باوجود اس کے کہ میری شادی پر بارہ سال گزر چکے ہیں ان تینوں میں سے کوئی اولاد نہیں۔میں چاہتا ہوں کہ میری سب سے بڑی بیوی سے خوبصورت اور صاحب اقبال لڑکا پیدا ہو۔