سیرت طیبہ — Page 18
۱۸ نظروں سے پوشیدہ ہے تو اے میرے پیارے آقا! تو مجھے اپنی محبت کا کرشمہ دکھا اور میرے عشق کے پوشیدہ راز کولوگوں پر ظاہر فرمادے۔ہاں اے وہ جو ہر متلاشی کی طرف خود چل کر آتا ہے اور ہر اس شخص کے دل کی آگ سے واقف ہے جو تیری محبت میں جل رہا ہے میں تجھے اپنی اس محبت کے پودے کا واسطہ دے کر کہتا ہوں کہ جو میں نے تیرے لیے اپنے دل کی گہرائیوں میں لگا رکھا ہے کہ تو میری بریت کے لئے باہر نکل آ۔ہاں ہاں اے وہ جو میری پناہ اور میرا سہارا اور میری حفاظت کا قلعہ ہے وہ محبت کی آگ جو تو نے اپنے ہاتھ سے میرے دل میں روشن کی ہے اور جس کی وجہ سے میرے دل و دماغ میں تیرے سوا ہر دوسرا خیال جل کر راکھ ہو چکا ہے تو اب اسی آگ کے ذریعہ میرے پوشیدہ چہرے کو دنیا پر ظاہر کر دے اور میری تاریک رات کو دن کی روشنی میں بدل دے۔“ اس عجیب و غریب نظم میں حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے ذات باری تعالیٰ کے ساتھ جس بے پناہ محبت کا اظہار کیا ہے وہ اتنی ظاہر وعیاں ہے کہ اس پر کسی تبصرہ کی ضرورت نہیں۔ان اشعار کے الفاظ اس اسفنج کے ٹکڑے کا رنگ رکھتے ہیں جس کے رگ وریشہ میں مصفیٰ پانی کے قطرات اس طرح بھرے ہوئے ہوں کہ اسفنج کو پانی سے اور پانی کو اسفنج سے ممتاز کرنا ناممکن ہو جائے۔مگر میں ان اشعار کی تحدی اور خدائی نصرت پر کامل بھروسہ کے پہلو کے متعلق دوستوں کو ضرور تھوڑی سی توجہ دلانا چاہتا ہوں۔یہ اشعار جیسا کہ ہماری جماعت کے اکثر واقف کا راصحاب جانتے ہیں ۱۸۹۹ء میں کہے گئے تھے جس پر اس وقت ساٹھ سال کا عرصہ گذرا ہے جس کا زمانہ پانے