سیرت طیبہ

by Hazrat Mirza Bashir Ahmad

Page 17 of 315

سیرت طیبہ — Page 17

۱۷ بامن از روئے محبت کارکن اند کے افشاء آں اسرار کن اے کہ آئی سوئے ہر جو بندئے واقفی از سوز ہر سوزندئے زاں تعلق با که با تو داشتم زاں محبت ہا کہ در دل کاشتم خود بروں آ از پیٹے ابراء من اے تو کہف و ملجاء و ما وائے من آتش کاندر دلم افروختی وزدم آن غیر خود را سوختی ہم ازاں آتش رُخ من بر فروز ویں شب تارم مبدل کن بروز (حقیقة المهدی روحانی خزائن جلد ۱۴ صفحه ۴۳۴) یعنی اے میرے قادر وقد بر خدا! اے وہ جو زمین و آسمان کا واحد خالق و مالک ہے۔اے وہ جو اپنے بندوں پر بے انتہا رحم کرنے والا اور ان کی ہدایت کا بے حد آرزومند ہے۔ہاں اے میرے آسمانی آقا جو لوگوں کے دلوں کی گہرائیوں پر نظر رکھتا ہے جس پر زمین و آسمان کی کوئی چیز بھی پوشیدہ نہیں۔اگر تو دیکھتا ہے کہ میرا ندرونہ فسق و فساد اور فتنہ وشر کی نجاست سے بھرا ہوا ہے اگر تو مجھے ایک بدفطرت اور نا پاک سیرت انسان خیال کرتا ہے تو میں تجھے تیرے جبروت کا واسطہ دے کر کہتا ہوں کہ مجھ بد کار کو پارہ پارہ کر کے رکھ دے اور میرے مخالفوں کے دلوں کو ٹھنڈا کر۔تو میرے درو دیوار پر اپنے عذاب کی آگ برسا اور میرا دشمن بن کر میرے کاموں کو تباہ و بربادکر دے لیکن اگر تو جانتا ہے کہ میں تیرا اور صرف تیرا ہی بندہ ہوں۔اور اگر تو دیکھ رہا ہے کہ صرف تیرا ہی مبارک آستانہ میری پیشانی کی سجدہ گاہ ہے۔اگر تو میرے دل میں اپنی وہ بے پناہ محبت پاتا ہے جس کا راز اس وقت تک دنیا کی