سیرت طیبہ — Page ii
بسم اللہ الرحمن الرحیم پیش لفظ جماعت احمدیہ کے بانی حضرت مرزا غلام احمد قادیانی کی سیرت و سوانح پر اب تک بہت سی کتب چھپ چکی ہیں لیکن حضرت مرزا بشیر احمد صاحب ایم۔اے کی اس موضوع پر تحریروں کا رنگ منفرد ہے۔آپ نے اپنی زندگی کے آخری سالوں ۱۹۵۹، ۱۹۶۱،۱۹۶۰ اور ۱۹۶۲ میں جماعت احمدیہ کے سالانہ جلسہ کے موقع پر ذکر حبیب“ کے عنوان کے ماتحت حضرت بانی سلسلہ احمدیہ کی سیرت کے مختلف پہلو اور حضور کی زندگی کے چیدہ چیدہ واقعات نہایت اچھوتے انداز میں بیان فرمائے تھے واقعات کے انتخاب میں حضرت میاں صاحب کی نظر بہت گہری اور محتاط تھی۔عبارت میں سلاست اور روانی کے باوجود حضرت میاں صاحب کا انداز بیان اس قدر دلکش اور پر شوکت ہو تا تھا کہ سامعین پر ایک وجد کی کیفیت طاری ہو جاتی تھی۔حضرت میاں صاحب کی زندگی میں یہ چاروں مقالات سیرت طیبہ، درمنثور، در مکنون اور آئینہ جمال کے نام سے علیحدہ علیحدہ چھپ چکی ہیں۔حضرت میاں صاحب کی خواہش تھی کہ یہ مجموعی شکل میں بھی چھپ جائیں۔اس خواہش کے احترام اور مضمون کی افادیت کے پیش نظر انہیں سیرت طیبہ کے نام سے شائع کیا جاتا ہے۔