سیرت طیبہ

by Hazrat Mirza Bashir Ahmad

Page 191 of 315

سیرت طیبہ — Page 191

سرنگوں ہو جائیں گے۔۱۹۱ ۳۔جوں جوں اس مضمون کی اشاعت ہوگی دنیا میں قرآنی سچائی زور پکڑتی جائے گی اور اسلام کا نور پھیلتا جائے گا جب تک کہ اپنا دائرہ پورا کر لے۔(اشتہار سچائی کے طالبوں کے لئے ایک عظیم الشان خوشخبری ۲۱۴ / دسمبر ۱۸۹۶ء) مذاہب عالم کا یہ عظیم الشان جلسہ ۲۸،۲۷،۲۶ اور ۲۹ دسمبر کی تاریخوں میں لاہور میں منعقد ہوا اور اس میں اسلام اور مسیحیت اور ہندو مذہب اور سناتن دھرم اور آریہ مذہب اور سکھ مذہب اور برہموسماج اور فری تھنکر اور تھیوسافیکل سوسائٹی وغیرہ کے نمائندوں نے اپنے اپنے عقائد اور خیالات بیان کئے اور سات آٹھ ہزار کی عظیم الشان نمائندہ پبلک نے جس میں ہر طبقہ اور ہر ملت کے تعلیم یافتہ اصحاب شامل تھے جلسہ میں شرکت کی اور سب مقررین نے اپنے اپنے مذہب اور اپنے اپنے نظریات کی خوبیاں سجا سجا کر پیش کیں۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام کا لکھا ہوا مضمون حضور کے ایک مخلص حواری حضرت مولوی عبد الکریم صاحب سیالکوٹی نے بلند اور بارعب آواز سے پڑھ کر سنایا اور اس وقت اس مضمون کی تاثیر کا یہ عالم تھا کہ حضرت بھائی عبد الرحمان صاحب بیان کرتے ہیں دوست خود انہی کے الفاظ میں سنیں۔حضرت بھائی صاحب فرماتے ہیں کہ ”میں نے اپنے کانوں سے سنا کہ ہندو اور سکھ بلکہ کٹر آریہ سماجی اور عیسائی تک بے ساختہ سبحان اللہ سبحان اللہ پکار رہے تھے۔ہزاروں انسانوں کا یہ مجمع اس طرح بے حس و حرکت بیٹھا تھا کہ جیسے کوئی بے جان بُت ہو اور اگر ان کے سروں پر پرندے بھی آ بیٹھتے تو تعجب کی بات نہ تھی۔مضمون کی