سیرت طیبہ

by Hazrat Mirza Bashir Ahmad

Page 180 of 315

سیرت طیبہ — Page 180

۱۸۰ انگریز کی حکومت کے متعلق لکھا تھا وہ ہرگز ہرگز خوشامد کے رنگ میں نہیں تھا بلکہ وہ صرف انگریزوں کے زمانہ کے قیام امن اور ان کی مذہبی آزادی کی پالیسی کی اصولی تعریف کے طور پر لکھا تھا۔ورنہ مذہباً حضرت مسیح موعود نے مسیحیت کے باطل عقائد اور عیسائی پادریوں کے دجل اور مغربی ملکوں کی زہر آلود مادیت کے خلاف جو کچھ اظہار فرمایا ہے وہ اس قدر ظاہر وعیاں ہے کہ کسی تشریح کا محتاج نہیں۔چنانچہ ایک جگہ اپنی ایک عربی نظم میں بڑی غیرت اور جوش کے ساتھ تحریر فرماتے ہیں:۔أنْظُرُ إِلَى الْمُتَنَظِرِينَ وَذَانِهِمُ وَ انْظُرُ إِلَى مَا بَدَأَ مِنْ أَدْرَانِهِمُ مِنْ كُلِّ حَدَبٍ يَنْسِلُونَ تَشَنُّرًا وَ يُنَجِّسُونَ الْأَرْضَ مِنْ أَوْثَانِهِمُ حَلَّتْ بِأَرْضِ الْمُسْلِمِينَ جُنُودُهُمْ فَسَرَتْ غَوَائِلُهُمْ إِلَى نِسْوَانِهِمْ يا رب أحمد يا إلهَ مُحمد اعْصِمُ عِبَادَكَ مِنْ سُمُومِ دُخَانِهِمْ يَا رَبِّ سَحْقُهُمْ كَسَحْقِكَ طَاغِيًا وَ انْزِلُ بِسَاحَتِهِمْ لِهَدُهِ مَكَاظِهِمْ يَا رَبِّ مَزْقُهُمْ وَ فَرِّقُ شَمْلَهُمْ يَا رَبِّ قَوْدُهُمْ إِلَى ذَوَبَانِهِمُ نور الحق حصہ اول روحانی خزائن جلد ۸ صفحه ۱۲۳ تا ۱۲۶)