سیرت طیبہ — Page 179
۱۷۹ گوردواروں میں تبدیل کر لی گئی تھیں حتی کہ خود قادیان میں اس وقت تک بھی دو قدیم مسجد میں گوردوارہ کی شکل میں موجود ہیں۔اور عام بدامنی اور مذہبی رواداری کے فقدان کا تو کہنا ہی کیا ہے۔یہ سب پر آشوب نظارے حضرت مسیح موعود کی آنکھوں کے سامنے تھے۔ایسے روح فرسا منظر کے بعد امن کا سانس ہمیشہ خاص بلکہ خاص الخاص شکر گزاری کا موجب ہوا کرتا ہے اور حضرت مسیح موعود سے زیادہ شکر گزار انسان کون ہوسکتا ہے؟ دوسرے یہ بات بھی ہمیشہ یادرکھنی چاہیے کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کوئی سیاسی لیڈر نہیں تھے بلکہ آپ حضرت مسیح ناصری کی طرح خالصہ جمالی رنگ میں مذہبی اور روحانی اصلاح کی غرض سے مبعوث کئے گئے تھے۔اور طبعا آپ کی آنکھ ہر بات کو روحانی اور اخلاقی اصلاح کی نظر سے ہی دیکھتی تھی۔اور چونکہ مذہبی آزادی دینے کے معاملہ میں حکومت انگریزی کی پالیسی بلا ریب بہت قابل تعریف تھی اور یورپ کی کوئی دوسری حکومت اس معاملہ میں انگریزوں کا مقابلہ نہیں کر سکتی۔حتی کہ ریاستہائے متحدہ امریکہ جیسا آزاد ملک اب تک بھی مذہبی آزادی اور مذہبی رواداری کے معاملہ میں انگریز قوم کی برابری نہیں کر سکتا اس لئے طبعاً ایک روحانی اور مذہبی مصلح کی حیثیت میں حضرت مسیح موعود نے انگریز حکومت کی تعریف فرمائی اور یہ تعریف اپنے پس منظر اور اپنے مخصوص ماحول کے لحاظ سے بالکل جائز اور درست تھی۔بلکہ ان حالات میں تعریف نہ کرنا یقینا ناشکری اور بددیانتی کا فعل ہوتا۔بہر حال جو شخص ان دو پہلوؤں کو جو میں نے اس جگہ بیان کئے ہیں مد نظر رکھ کر نیک نیتی کے ساتھ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی تعلیم کا مطالعہ کرے گا وہ اس بات کو یقینا آسانی سے سمجھ لے گا کہ حضرت مسیح موعود نے جو کچھ آج سے ساٹھ ستر سال پہلے کی