سیرت طیبہ

by Hazrat Mirza Bashir Ahmad

Page 169 of 315

سیرت طیبہ — Page 169

۱۶۹ مَا إِنْ رَأَيْنَا مِثْلَهُ للقائمين مُسَهدا نُورٌ مِّنَ اللهِ الَّذِي أَحْيَ الْعُلُومَ تَجددا الْمُصْطَفَى وَالْمُجْتَبى وَالْمُقْتَدى وَالْمُجْتَدى کرامات الصادقین روحانی خزائن جلدے صفحہ ۷۰) یعنی اے میرے دل تو احمد (صلی اللہ علیہ وسلم ) کو یا دکیا کر جو ہدایت کا سرچشمہ ہے اور حق کے دشمنوں کے لئے تباہی کا پیغام ہے۔وہ نیکیوں کا مجموعہ اور شرافت کا پتلا اور احسانوں کا مجسمہ ہے۔وہ بخششوں کا سمندر ہے اور سخاوتوں کا بحر بیکراں ہے۔وہ چودھویں کے چاند کی طرح روشن اور ضیا پاش ہے۔اور وہی ہر تعریف اور ہر توصیف کا مستحق ہے۔اس کے احسان دلوں کو گرویدہ کرتے ہیں اور اس کا حسن آنکھوں کی پیاس کو بجھاتا ہے اس کے کمالات کی نظیر تلاش کر کے دیکھ لو تم حیران اور مایوس ہو کر نادم ہو جاؤ گے مگر اس کی نظیر نہیں ملے گی۔حق یہ ہے کہ ہم نے دنیا بھر میں اس جیسا سوتوں کو جگانے والا کوئی نہیں دیکھا۔وہ خدا کی طرف سے ایک نور بن کر نازل ہوا اور خدا نے اس کے ہاتھ سے دنیا کو روحانی علوم میں نئی زندگی بخشی۔وہ خدا کا برگزیدہ ہے اور چنیدہ ہے اور پیشوائے عالم ہے اور وہی تو ہے جو تمام فیوض کا منبع ہے۔“