سیرت طیبہ — Page 167
۱۶۷ باخدا انسانوں کو خدا نما انسان بنانے کے لئے آسمان سے نازل ہوئی ہے۔چنانچہ ذات باری تعالیٰ اور اس کے پاک کلام کے متعلق فرماتے ہیں۔دوست غور سے سنیں که کن زور دار الفاظ میں فرماتے ہیں :- ”یقینا سمجھو کہ جس طرح یہ ممکن نہیں کہ ہم بغیر آنکھوں کے دیکھ سکیں یا بغیر کانوں کے سن سکیں یا بغیر زبان کے بول سکیں اسی طرح یہ بھی ممکن نہیں کہ بغیر قرآن کے اس پیارے محبوب ( یعنی اپنے آسمانی آقا ) کا منہ دیکھ سکیں۔میں جوان تھا۔اب بوڑھا ہوا مگر میں نے کوئی نہ پایا جس نے بغیر اس پاک چشمہ کے اس کھلی کھلی معرفت کا پیالہ پیا ہو۔اے عزیزو! اے پیارو! کوئی انسان خدا کے ارادوں میں اس سے لڑائی نہیں کر سکتا۔یقینا سمجھ لو کہ کامل علم کا ذریعہ خدا تعالیٰ کا الہام ہے جو خدا تعالیٰ کے پاک نبیوں کو ملا۔پھر بعد اس کے اس خدا نے جو دریائے فیض ہے یہ ہرگز نہ چاہا کہ آئندہ اس الہام پر مہر لگا دے اور اس طرح پر دنیا کو تباہ کرے۔۔۔۔۔انسان کی تمام سعادت اسی میں ہے کہ جہاں روشنی کا پتہ ملے اسی طرف دوڑے اور جہاں اس گم گشتہ دوست کا نشان پیدا ہو، اسی راہ کو اختیار کرے۔دیکھتے ہو کہ ہمیشہ آسمان سے روشنی اترتی اور زمین پر پڑتی ہے۔اسی طرح ہدایت کا سچا نور آسمان سے ہی اترتا ہے۔۔۔۔۔کامل اور زندہ خداوہ ہے جو اپنے وجود کا آپ پتہ دیتا رہا ہے اور اب بھی اس نے یہی چاہا ہے کہ آپ اپنے وجود کا پتہ دیوے۔آسمانی کھڑکیاں کھلنے کو ہیں۔عنقریب صبح صادق ہونے والی ہے۔مبارک وہ جو اٹھ بیٹھیں اور اب نیچے