سیرت طیبہ

by Hazrat Mirza Bashir Ahmad

Page 142 of 315

سیرت طیبہ — Page 142

۱۴۲ خلاف سمجھی جاتی تھیں وہ آج نئی نئی تحقیقاتوں اور نئے نئے انکشافوں کے نتیجہ میں قانونِ قدرت کے مطابق درست ثابت ہو رہی ہیں۔اور پھر خدا اپنے بنائے ہوئے قانون کا غلام نہیں ہے بلکہ اپنے خاص مصالح کے ماتحت اس قانون میں وقتی طور پر مناسب تبدیلی بھی کر سکتا ہے جیسا کہ وہ خود قرآن میں فرماتا ہے کہ اللهُ غَالِبٌ على آمده (سوره یوسف آیت ۲۲) د یعنی خدا اپنی جاری کردہ تقدیر پر بھی غالب ہے اور اسے خاص حالات میں بدل سکتا ہے۔“ اس کا یہ مطلب نہیں کہ خدا اپنے بنائے ہوئے قانون اور سلسلہ اسباب کو توڑ دیتا ہے بلکہ جیسا کہ حضرت مسیح موعود نے تصریح فرمائی ہے مراد یہ ہے کہ بعض اوقات خدا ایسے مخفی در مخفی اسباب پیدا کر دیتا ہے جو دنیا کو نظر نہیں آتے مگر اُن کے نتیجہ میں اُس کے کسی بدیہی قانون میں وقتی تبدیلی رونما ہو جاتی ہے۔( ملفوظات جلد اوّل صفحه ۱۱۴) پس حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے بڑی تحدی کے ساتھ فرمایا کہ اگر خدا نے اپنے کسی خاص الخاص تصرف سے اپنے پیارے بندے ابراہیم کے لئے دشمنوں کی لگائی ہوئی آگ کو سچ سچ ٹھنڈا کر دیا ہو تو اس میں ہرگز کوئی تعجب کی بات نہیں۔حضرت مسیح موعود تو خدا کے مامور ومرسل تھے۔یہ صداقت تو وہ ہے جسے امت محمدیہ کے اکثر سمجھدار لوگوں نے برملا تسلیم کیا ہے لیکن حضرت مسیح موعود نے اس موقعہ پر صرف ایک حقیقت اور ایک فلسفہ کا ہی اظہار نہیں فرمایا بلکہ ایک ربانی مصلح اور ذاتی مشاہدہ سے مشرف انسان کی حیثیت میں بڑے وثوق اور جلال کے ساتھ یہ بھی فرمایا احباب غور