سیرت طیبہ

by Hazrat Mirza Bashir Ahmad

Page 141 of 315

سیرت طیبہ — Page 141

۱۴۱ (۲۶) اُس عدیم المثال محبت کی وجہ سے جو خدا کے لئے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے دل میں تھی اور پھر اس محبت کی وجہ سے جو خدا کو آپ کے ساتھ تھی حضرت مسیح موعود کو خدا کی غیر معمولی نصرت اور حفاظت پر ناز تھا۔چنانچہ ایک دفعہ کا واقعہ ہے کہ جب ایک آریہ نے اسلام پر یہ اعتراض کیا کہ قرآن نے حضرت ابراہیم کے متعلق یہ بات قانونِ قدرت کے خلاف بیان کی ہے اس لئے وہ قابل قبول نہیں کہ جب دشمنوں نے ان کو آگ میں ڈالا تو خدا کے حکم سے آگ اُن پر ٹھنڈی ہوگئی۔اور حضرت مولوی نور الدین صاحب خلیفہ اول نے اس اعتراض کے جواب میں یہ لکھا کہ یہاں آگ سے حقیقی آگ مراد نہیں بلکہ دشمنی اور شرارت کی آگ مراد ہے اور بعض لوگوں نے اس جواب کو بہت پسند کیا۔مگر جب حضرت مولوی صاحب کے اس جواب کی اطلاع حضرت مسیح موعود کو پہنچی تو آپ نے بڑے جلال کے ساتھ فرمایا کہ مولوی صاحب کو اس تاویل کی ضرورت نہیں تھی۔خدا کے بنائے ہوئے قانونِ قدرت کا احاطہ کون کر سکتا ہے۔چنانچہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام اپنے ایک نہایت لطیف اور بصیرت افروز شعر میں فرماتے ہیں کہ : نہیں محصور ہر گز راستہ قدرت نمائی کا خدا کی قدرتوں کا حصر دعوی ہے خدائی کا اور حق بھی یہی ہے کہ آج سے کچھ عرصہ پہلے جو باتیں بظاہر قانونِ قدرت کے