سیرت طیبہ — Page 118
۱۱۸ (14) حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے ساتھ آریہ قوم کی دشمنی سب کو معلوم ہے اس قوم نے ہر میدان میں حضرت مسیح موعود سے شکست کھائی اور سینکڑوں نشان دیکھے مگر اپنی از لی شقاوت کی وجہ سے حضرت مسیح موعود کی مخالفت میں ہر آن ترقی کرتی گئی۔اس قوم کا ایک فرد قادیان میں رہتا تھا جس کا نام لالہ شرم پت تھا لالہ صاحب حضرت مسیح موعود سے اکثر ملتے رہتے تھے اور آپ کی بہت سی پیشگوئیوں کے گواہ تھے مگر جب بھی حضرت مسیح موعود نے ان کو شہادت کے لئے بلایا انہوں نے پہلو تہی کی۔یعنی نہ تو اقرار کی جرات کی اور نہ انکار کی ہمت پائی۔مگر کٹر آریہ ہونے کے باوجود حضرت مسیح موعود ان کا بہت خیال رکھتے تھے۔اور بڑی ہمدردی فرماتے تھے۔شیخ یعقوب علی صاحب عرفانی مرحوم روایت کرتے ہیں کہ ایک دفعہ لالہ شرم پت صاحب بہت بیمار ہو گئے۔ان کے پیٹ پر ایک خطر ناک قسم کا پھوڑا نکل آیا اور وہ سخت گھبرا گئے اور اپنی زندگی سے مایوس ہونے لگے۔جب حضرت مسیح موعود کو ان کی بیماری کا علم ہوا تو حضور خود ان کی عیادت کے لئے ان کے تنگ و تاریک مکان پر تشریف لے گئے۔اور انہیں تسلی دی اور ان کے علاج کے لئے اپنے ڈاکٹر کو مقرر کر دیا کہ وہ لالہ صاحب کا باقاعدگی کے ساتھ علاج کریں۔ان ڈاکٹر صاحب کا نام ڈاکٹر محمد عبد اللہ تھا اور قادیان میں اس وقت وہی اکیلے ڈاکٹر تھے۔اس کے بعد حضرت مسیح موعود ہر روز لالہ صاحب کی عیادت کے لئے ان کے مکان پر تشریف لے جاتے رہے۔ان ایام