سیرت طیبہ

by Hazrat Mirza Bashir Ahmad

Page 115 of 315

سیرت طیبہ — Page 115

۱۱۵ میرے ساتھ رہی ہے اسی طرح آخرت میں بھی میرے ساتھ ہوگی۔“ (سیرۃ المہدی جلدا صفحه ۵۸ و نیز اصحاب احمد ذکر منشی ظفر احمد صاحب مرحوم ) (۱۵) قادیان میں ایک لڑکا حیدر آباد دکن سے تعلیم کے لئے آیا تھا۔اس کا نام عبدالکریم تھا اور وہ ایک نیک اور شریف لڑکا تھا۔اتفاق سے اسے حضرت مسیح موعود کے زمانہ میں دیوانے کتے نے کاٹ لیا۔چونکہ انبیاء کرام کی سنت کے مطابق حضرت مسیح موعود کا یہ طریق تھا کہ دعا کے ساتھ ساتھ ظاہری تدبیر بھی اختیار فرماتے تھے اور بعض نام نہاد صوفیوں کی طرح جھوٹے توکل کے قائل نہیں تھے۔آپ نے اس لڑکے کو کسولی پہاڑ پر علاج کے لئے بھجوایا اور وہ اپنے علاج کا کورس پورا کر کے قادیان واپس آ گیا۔اور بظاہر اچھا ہو گیا۔مگر کچھ عرصہ کے بعد اس میں اچانک مخصوص بیماری یعنی ہائیدروفوبیا (Hydrophobia) کے آثار پیدا ہو گئے۔حضرت مسیح موعود نے اس کے لئے دعا فرمائی اور ساتھ ہی مدرسہ کے ہیڈ ماسٹر کو حکم دیا کہ کسولی کے ڈاکٹر کو تار دے کر عبد الکریم کی حالت بتائی جائے اور علاج کے متعلق مشورہ پوچھا جائے۔کسولی سے تار کے ذریعہ جواب آیا کہ ساری تھنگ گین بی ڈن فاز عبد الکریم“ نہیں (Sorry Nothing can be done for Abdul Karim) د یعنی افسوس ہے کہ بیماری کے حملہ کے بعد عبد الکریم کا کوئی علاج