سیرت طیبہ

by Hazrat Mirza Bashir Ahmad

Page 98 of 315

سیرت طیبہ — Page 98

۹۸ (<) حضرت مسیح موعود علیہ السلام میں اطاعت رسول کا بھی نہایت زبر دست جذبہ تھا اور آپ بظاہر چھوٹی چھوٹی باتوں میں بھی اپنے آقا کی اتباع میں لذت پاتے اور اس کا غیر معمولی خیال رکھتے تھے۔چنانچہ میں اس موقع پر دو بظاہر بہت معمولی سے واقعات بیان کرتا ہوں کیونکہ انسان کا کیریکٹر زیادہ تر چھوٹی باتوں میں ہی ظاہر ہوا کرتا ہے۔ایک دفعہ کا ذکر ہے کہ جبکہ آپ مولوی کرم دین والے تکلیف دہ فوجی مقدمے کے تعلق میں گورداسپور تشریف لے گئے تھے اور وہ سخت گرمی کا موسم تھا اور رات کا وقت تھا آپ کے آرام کے لئے مکان کی کھلی چھت پر چارپائی بچھائی گئی۔جب حضرت مسیح موعود علیہ السلام سونے کی غرض سے چھت پر تشریف لے گئے تو دیکھا کہ چھت پر کوئی پردہ کی دیوار نہیں ہے آپ نے ناراضگی کے لہجہ میں خدام سے فرمایا۔” کیا آپ کو یہ بات معلوم نہیں ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے بے پردہ اور بے منڈیر کی چھت پر سونے سے منع فرمایا ہے۔“ (سيرة المهدی) چونکہ اس مکان میں کوئی اور مناسب صحن نہیں تھا آپ نے گرمی کی انتہائی شدت کے باوجود نیچے کے مسقف کمرے میں سونا پسند کیا مگر اس کھلی چھت پر نہیں سوئے۔آپ کا یہ فعل اس وجہ سے نہیں تھا کہ پردہ کے بغر چھت پر سونا کسی خطرے کا