سیرت طیبہ محبوب کبریا ﷺ

by Other Authors

Page 88 of 99

سیرت طیبہ محبوب کبریا ﷺ — Page 88

نَوَّرْتَ وَجْهَ الْبَر وَالْعُمْرَانِ تو نے بیابانوں، صحراؤں اور آبادیوں کو منور کردیا ہے قَوْمَ رَئَ وَکَ وَامَّةً قَدْ أُخْبِرَتْ ایک قوم تیرے دیدار سے مشرف ہوئی اور ایک جماعت نے ذَلِكَ الْبَدْرِ الَّذِي أَصْبَانِي اس بدر کی خبر سنی جس نے مجھے اپنا فریفتہ اور شیدا بنا لیا ہے مِنْ يَامَنُ يَا وہ گا غدا فِي نوره وَضِيَائِهِ جو اپنے نور اور روشنی میں لتَيَرَيْنِ وَنَوَّرَ الْمَلَوَانِ مہر و ماہ کی طرح ہو گیا ہے اور اپنے نور سے رات دن کو منور کر دیا ہے بَدْرَنَا يا آيَة الرَّحْمَنِ اے ہمارے چودھویں کے چاند اے خدائے رحمن کے نشان الشَّجَعَانِ أهْدَى الْهُدَاةِ وَأَشْجَعَ اے سب ہادیوں سے بڑے ہادی اور سب بہادروں سے بڑے بہادر إِنِّي أَرَى فِي وَجْهِكَ الْمُتَهَدِّلِ میں تیرے خنداں و درخشاں چہرے میں ایک ایسی يَفُوْقُ شَمَائِلَ الْإِنْسَانِ شَأْنًا شان دیکھتا ہوں جو انسانی شمائل پر فوقیت رکھتی ہے أَحْيَيْتَ أَمْوَاتَ الْقُرُونِ بِجَلْوَةٍ تو نے صدیوں کے مردے ایک جلوہ سے زندہ کر دیئے يُمَاثِلُكَ بِهذا مَاذَا الشَّانِ کون ہے جو اس شان میں تیرا نظیر ہو سکے 88