سیرت طیبہ محبوب کبریا ﷺ — Page 78
اگر ہمارے سید و مولی آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم بیویاں نہ کرتے تو ہمیں کیونکر سمجھ آسکتا کہ خدا کی راہ میں جاں فشانی کے موقعہ پر آپ صلی اللہ علیہ وسلم ایسے بے تعلق تھے کہ گویا آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی کوئی بھی بیوی نہیں تھی مگر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے بہت سی بیویاں اپنے نکاح میں لا کر امتحانوں کے موقعہ پر یہ ثابت کر دیا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو جسمانی لذات سے کچھ بھی غرض نہیں اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی ایسی مجردانہ زندگی ہے کہ کوئی چیز آپ کو خدا سے روک نہیں سکتی۔تاریخ دان لوگ جانتے ہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے گھر میں گیارہ لڑکے پیدا ہوئے تھے اور سب کے سب فوت ہو گئے تھے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہر ایک لڑکے کی وفات کے وقت یہی کہا کہ مجھے اس سے کچھ تعلق نہیں۔میں خدا کا ہوں اور خدا کی طرف جاؤں گا ہر ایک دفعہ اولاد کے مرنے میں جولخت جگر ہوتے ہیں منہ سے نکلتا تھا کہ اے خدا ہر ایک چیز پر میں تجھے مقدم رکھتا ہوں مجھے اس اولاد سے کچھ تعلق نہیں۔کیا اس سے یہ ثابت نہیں ہوتا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم بالکل دنیا کی خواہشوں اور شہوات سے بے تعلق تھے اور خدا کی راہ میں ہر ایک وقت اپنی جان ہتھیلی پر رکھتے تھے۔۔۔۔۔اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی بیویاں بھی بجز حضرت عائشہ کے سب سن رسیدہ تھیں بعض کی عمر ۲۰ برس تک پہنچ چکی تھی اس سے معلوم ہوتا ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا تعد ازواج سے یہی اہم اور مقدم مقصود تھا کہ عورتوں میں مقاصد دین شائع کئے جائیں اور اپنی صحبت میں رکھ کر اُن کو علم دین سکھایا جائے تا وہ دوسری عورتوں کو اپنے نمونہ اور تعلیم سے ہدایت دے سکیں۔( بحوالہ شان محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم حصہ اول صفحہ نمبر ۱۳۵ تا ۱۳۷) کسی نے کیا خوب کہا ہے: چناں زندگی کن که باصد عیال ندا دی بدل غیر آں ذوالجلال ترجمه: که سو عیال کے ہوتے ہوئے اپنی زندگی کو اس طرح بسر کر کہ تیرا دل صرف خداوند ذوالجلال والاکرام کے ذکر میں ہی لگا ہو اور تیرا ملجا و ماویٰ صرف خدائے ذوالجلال ہی ہو۔سبحان 78