سیرت طیبہ محبوب کبریا ﷺ — Page 77
والہ وسلم کی فرماں برداری کا بھی بہترین نمونہ قائم کر دیا۔خدا تعالیٰ کی محبت کا ذکر وَالَّذِينَ آمَنُوا أَشَدَ حَبالِلہ۔(البقرہ:۱۶۶) میں پایا جاتا ہے۔اور رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے محبت کا ذکر الْمَوَدَّةَ فِي الْقُرْبى (الشوری: ۲۴) میں ملتا ہے۔یہ دو بڑے ذرائع ہیں جن سے رضائے الہی کی جنت حاصل ہوتی ہے اور ہمارا سر فخر سے بہت اونچا ہو جاتا ہے جب ہم دیکھتے ہیں کہ امہات المومنین نے ان دونوں ذرائع کے حصول میں بہترین نمونہ پیش کیا۔ام المومنین حضرت عائشہ نے تو قلیل عرصہ کی صحبت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم میں ایسا بلند روحانی مقام حاصل کیا کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا کہ نصف دین عائشہ سے سیکھو۔اُم المومنین حضرت خدیجہ نے تجارت کے متعلق آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے معاملات سے روز اول سے ہی آپ کو امین اور صدیق پا کر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے اخلاق فاضلہ اور شمائلہ حسنہ کو پرکھ لیا تھا۔اسی لئے انہوں نے خود حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو نکاح کا پیغام بھجوایا۔اول وحی کے نزول پر آپ کے اخلاق کریمانہ کی بہترین تعریف و توصیف بیان کی جو آب زر سے لکھے جانے کے قابل ہے اور شادی کے بعد جان و دل سے اپنے عظیم المرتبت شوہر کی خدمت اور اطاعت وفرماں برداری کا بہترین نمونہ چھوڑا۔حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو غار حرا میں کھانا حضرت خدیجہ خود پہنچا تیں تا کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سکون سے اپنے پیارے رب کریم کی یاد میں محو رہ سکیں بخاری شریف میں روایت ہے کہ ایک دفعہ جبرائیل علیہ السلام نے حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے کہا خدیجہ برتن میں کچھ لا رہی ہیں اُن کو خدا تعالیٰ کا اور میرا سلام پہنچادیں سبحان اللہ حضرت خدیجہ نے محبت الہی میں اس قدر ترقی کی کہ خدائے ذوالعرش کی طرف سے اُنہیں سلام کا تحفہ پہنچایا گیا۔الغرض حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی شادیاں دنیا کے لئے برکتوں اور رحمتوں کے سامان فراہم کرگئیں۔اس بارہ میں حضرت مسیح پاک علیہ الصلوۃ والسلام کی رُوح پرور تحریر کے اقتباسات ملاحظہ ہوں۔حضور فرماتے ہیں : 77