سیرت طیبہ محبوب کبریا ﷺ

by Other Authors

Page 67 of 99

سیرت طیبہ محبوب کبریا ﷺ — Page 67

ہوسکتی ہے جو ہر وقت اُس کے حالات کو دیکھتی ہے۔پس یہ گواہی سب سے معتبر گواہی ہے جس سے ثابت ہوتا ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم واقعہ میں طہ تھے یعنی ایک کامل مرد میں جو فضائل پائے جانے چاہئیں وہ سب کے سب آپ میں پائے جاتے تھے۔اُم المومنین حضرت خدیجہ کی گواہی عین درست تھی کیونکہ شادی کے بعد انہوں نے اپنے سارے اموال اور غلام اپنے عظیم المرتبت شوہر کی خدمت میں پیش کئے تو آنحضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا کہ میں تو یہ سب کچھ راہ خدا میں دے دوں گا اور حضرت خدیجہ نے خندہ پیشانی سے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو عرض کیا کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم صاحب اختیار ہیں جس طرح چاہیں کریں چنانچہ آنحضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے تمام غلاموں کو آزاد کر دیا اور وہ تمام مال لے کر حاجت مندوں اور غرباء میں تقسیم کر دیا۔اس واقعہ سے ظاہر ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو اپنے پیارے رب کریم کی مخلوق سے کس قدر ہمدردی تھی اور کس طرح اُن کے لئے بے دریغ مال خرچ کیا۔حضرت رحمة للعلمین صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم جیسا مشفق انسان نہ دنیا میں کبھی پیدا ہوا اور نہ کبھی ہوگا آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی شفقت ہر طبقہ کے انسانوں سے تھی آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ذریعہ سے ہی انسانیت کا شرف قائم ہوا آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم حقیقی معنوں میں انسان دوست تھے اور اس میں غریب امیر کا کوئی امتیاز نہ تھا۔اسی وجہ سے خدائے ذوالعرش نے بھی آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو سند خوشنودی عطا فرمائی۔فَبِمَا رَحْمَةٍ مِنَ اللَّهِ لِنْتَ لَهُمْ (ال عمران : ١٦٠) ترجمہ : ”خداوند کریم کی رحمت کی وجہ سے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نرم دل اور نرم خویعنی شفیق واقع ہوئے ہیں۔66 اور خداوند کریم نے آپ کی پیاری پیاری صفات کریمانہ اور لوگوں سے شفقت اور پیار کے سلوک اور اُن کی ہر دم خیر چاہنے اور اُن کے دکھ میں پڑنے سے خود تکلیف پریشانی اور رنج میں مبتلا ہونے کے بارے میں اپنی پاک کتاب میں شاندار الفاظ میں خراج تحسین کا اظہار فرمایا: لَقَدْ جَاءَكُمْ رَسُوْلُ مِنْ أَنْفُسِكُمْ عَزِيزٌ عَلَيْهِ مَا عَنِتُمْ حَرِيْضٍ عَلَيْكُمْ بِالْمُؤْمِنِيْنَ 67