سیرت طیبہ محبوب کبریا ﷺ — Page 66
66 اللہ علیہ وآلہ وسلم کی دنیا میں کوئی نظیر نہیں۔“ تبلیغ رسالت جلد ششم صفحه ۹ حوالہ حضرت مرزا غلام احمد قادیانی اپنی تحریروں کی رو سے صفحہ ۴۰۸) آنحضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم چونکہ غریبوں کے مولیٰ اور منجی تھے اس لئے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم یہ دعا فرمایا کرتے تھے : اللَّهُمَّ احْيِنِى مِسْكِيْنَا وَ اَمَتِنِى مِسْكِينًا وَاحْشُرْنِي فِي زُمْرَةِ الْمَسَاكِينَ يَوْمَ الْقِيَامَةِ یعنی اے اللہ مجھے مسکین ہونے کی حالت میں زندہ رکھ مسکین ہونے کی حالت میں وفات دے اور مساکین کے زمرہ میں ہی قیامت کے دن مجھے اُٹھا۔“ ( ترمذی ابواب الزہد باب ما جاء ان فقراء المهاجرين ) اور ایک دوسری حدیث میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا ہے: الْفَقْرَ فَخْرِی کہ مجھے اپنے فقر پر فخر ہے۔ابھی آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے نبوت کا دعویٰ بھی نہیں کیا تھا۔اُس وقت جب غارِ حرا میں آپ پر افر اوالی آیات کریمہ کا نزول ہوا اور جب آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے حضرت خدیجہ کو اس عظیم ذمہ داری کے متعلق بتلایا تو اُس وقت حضرت خدیجہ نے جو شاندار الفاظ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی تعریف و توصیف میں بیان فرمائے وہ سنہری حروف میں لکھے جانے کے قابل ہیں۔ان الفاظ میں آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے مخلوق خدا سے شفقت اور پیار کے سلوک اور احسانات کا تذکرہ کوٹ کوٹ کر بھرا ہوا ہے۔اُنہوں نے فرمایا اور شہادت دی کہ كَلَّا وَ اللَّهِ مَا يُخْزِيكَ اللهُ اَبَدًا یعنی آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے اندیشے غلط ہیں اللہ تعالیٰ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو بھی رسوا نہیں کرے گا۔اِنَّكَ لَتَصِلُ الرَّحِمَ وَتقرى الضَّيْفَ وَتَكْسِبُ الْمَعْدُوْمَ وَتَعِينُ عَلَى نوائبِ الْحَقِّ ( بخاری کتاب بدء الوحی ) کیونکہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ہمیشہ رشتہ داروں سے نیک سلوک کرتے ہیں اور مہمانوں کی مہمان نوازی کرتے ہیں اور وہ اخلاق فاضلہ جو دنیا سے مٹ گئے ہیں اُن کو پھر سے قائم کر رہے ہیں اگر کوئی شخص بغیر کسی شرارت کے پھنس جاتا ہے تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اُس کی مدد کرتے ہیں۔( بخاری ) انسان کی سب سے بڑی گواہ اُس کی بیوی ہی 66