سیرت طیبہ محبوب کبریا ﷺ

by Other Authors

Page 21 of 99

سیرت طیبہ محبوب کبریا ﷺ — Page 21

ہمارے پیارے آقا ومولا حضرت خاتم النبیین محمد مصطفی احمد مجتبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اپنے پیارے محسن حقیقی قادر و توانا کی رضا حاصل کرنے اور ہر روز اپنی جان پر کھیل جانے کے باوجود دنیا کے سب انسانوں حتی کہ انبیاء کرام کے مقابلہ میں بھی بہترین نمونہ پیش کرنے میں کوئی دقیقہ فروگزاشت نہ کیا کوئی دن ایسا نہیں چڑھتا تھا جس میں آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اپنے خالق و مالک کی رضا حاصل کرنے کیلئے اپنی جان کا نذرانہ پیش نہ کرتے ہوں اور کوئی رات ایسی نہیں آتی تھی جس میں آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم دل و جان سے اپنے آپ کو اس خدائے ذوالجلال کے حضور حاضر نہ کرتے لیکن آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے دشمن آپ کے مشن کو تباہ کرنے کے لئے ہر دم آمادہ نظر آتے تھے جبکہ خداوند کریم حفاظت کے سامان فراہم کر کے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی صداقت کا لوہا دنیا سے منواتا چلا گیا۔اور اس سے بڑھ کر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی صداقت کا کیا بین ثبوت ہوگا کہ دشمن اپنے منصوبوں اور مکروہ کارناموں سے اسلام کے نور کو بجھانے کی کوششوں میں ناکام رہا اس بارہ میں بھی آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے محب صادق اور غلام حضرت امام مہدی علیہ السلام کی روح پرور تحریر ملاحظہ فرمائیں: حضور علیہ السلام فرماتے ہیں : پانچ موقعے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے لئے نہایت نازک پیش آئے تھے جن میں جان کا بچنا محالات سے معلوم ہوتا تھا اگر آنجناب در حقیقت خدا کے سچے رسول نہ ہوتے تو ضرور ہلاک کئے جاتے۔(۱) ایک تو وہ موقعہ تھا جب کفار قریش نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے گھر کا محاصرہ کیا اور قسمیں کھالی تھیں کہ آج ہم ضرور قتل کریں گے۔(۲) دوسر اوہ موقعہ تھا جب کہ کافر لوگ اُس غار پر معہ ایک گروہ کثیر کے پہنچ گئے تھے جس میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم مع حضرت ابوبکر کے چھپے ہوئے تھے۔(۳) تیسر اوہ نازک موقعہ تھا جب کہ اُحد کی لڑائی میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم اکیلے رہ گئے تھے اور کافروں نے آپ کے گرد محاصرہ کر لیا تھا اور آپ پر بہت سی تلوار میں چلائیں مگر کوئی 21