سیرت طیبہ محبوب کبریا ﷺ

by Other Authors

Page 20 of 99

سیرت طیبہ محبوب کبریا ﷺ — Page 20

نیز حضرت امام الزمان علیہ السلام فرماتے ہیں: اور جو اخلاق کرم اور مجود اور سخاوت اور ایثار اور فتوت اور شجاعت اور زُہد اور قناعت اور اعراض عن الدنیا کے متعلق تھے وہ بھی آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی ذات مبارک میں ایسے روشن اور تاباں اور درخشاں ہوئے کہ مسیح کیا بلکہ دنیا میں آنحضرت سے پہلے کوئی بھی ایسا نبی نہیں گذرا جس کے اخلاق ایسی وضاحتِ تامہ سے روشن ہو گئے ہوں کیونکہ خدائے تعالیٰ نے بے شمار خزائن کے دروازے آنحضرت پر کھول دیئے۔سو آنجناب نے اُن سب کو خدا کی راہ میں خرچ کیا اور کسی نوع کی تن پروری میں ایک جبہ بھی خرچ نہ ہوا۔نہ کوئی عمارت بنائی۔نہ کوئی بارگاہ تیار ہوئی بلکہ ایک چھوٹے سے کچے کو ٹھے میں جس کو غریب لوگوں کے کوٹھوں پر کچھ بھی ترجیح نہ تھی۔اپنی ساری عمر بسر کی۔بدی کرنے والوں سے نیکی کر کے دکھلائی اور وہ جو دل آزار تھے اُن کو اُن کی مصیبت کے وقت اپنے مال سے خوشی پہنچائی۔سونے کے لئے اکثر زمین پر بستر اور رہنے کے لئے ایک چھوٹا سا جھونپڑا۔اور کھانے کے لئے نانِ جو یا فاقہ اختیار کیا۔دنیا کی دولتیں بکثرت اُن کو دی گئیں، پر آنحضرت نے اپنے پاک ہاتھوں کو دنیا سے ذرا آلودہ نہ کیا اور ہمیشہ فقر کو تونگری پر اور مسکینی کو امیری پر اختیار رکھا اور اُس دن سے جو ظہور فرمایا تا اُس دن تک جو اپنے رفیق اعلیٰ سے جاملے۔بجز اپنے مولیٰ کریم کے کسی کو کچھ چیز نہ سمجھا اور ہزاروں دشمنوں کے مقابلہ پر معرکہ جنگ میں کہ جہاں قتل کیا جانا یقینی امر تھا۔خالصاً خدا کے لئے کھڑے ہو کر اپنی شجاعت اور وفاداری اور ثابت قدمی دکھلائی۔غرض مجود اور سخاوت اور زہد اور قناعت اور مردمی اور شجاعت اور محبت الہیہ کے متعلق جو جو اخلاق فاضلہ ہیں۔وہ بھی خداوند کریم نے حضرت خاتم الانبیاء میں ایسے ظاہر کئے کہ جن کی مثل نہ کبھی دنیا میں ظاہر ہوئی اور نہ آئندہ ظاہر ہوگی۔۔۔۔۔۔۔۔کیونکہ وجود باجود آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا ہر ایک نبی کے لئے ستم اور مکمل ہے۔اور اس ذاتِ عالی کے ذریعہ سے جو کچھ امر مسیح اور دوسرے نبیوں کا مشتبہ اور مخفی رہا تھا۔وہ چمک اُٹھا اور خدا نے اس ذات مقدس پر انہیں معنون کر کے وحی اور رسالت کو ختم کیا کہ سب کمالات اس وجود باجود پرختم ہو گئے۔وهَذَا فَضْلُ اللَّهِ يُؤْتِيهِ مِّنْ يَشَاءُ ( براہین احمدیہ حصہ سوم روحانی خزائن جلد نمبر اصفحه ۲۸۹ تا۲۹۲ حاشیہ نمبر۱۱) 20