سیرت طیبہ محبوب کبریا ﷺ

by Other Authors

Page 11 of 99

سیرت طیبہ محبوب کبریا ﷺ — Page 11

أَحْيَيْتَ أَمْوَاتَ الْقُرُوْنِ بِجَلُوَةٍ مَاذَا يُمَائِلُكَ بِهَذَا الشَّانِ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے صدیوں کے مردے ایک ہی جلوہ سے (روحانی طور پر ) زندہ کر دیئے۔کون ہے جو اس اعلیٰ شان میں آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا نظیر ومثیل ہو سکے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت یسوع مسیح کے کام اور ان کے حواریوں کے کارناموں کی ایک ہلکی سی جھلک پیش فرمائی۔آپ فرماتے ہیں: ایسا ہی مسیح علیہ السلام کی زندگی پر نظر کرو۔ساری رات خود دعا کرتے رہے۔دوستوں سے کراتے رہے آخر شکوہ پر اتر آئے اور ایلی ایلی لِمَا سَبَقْتَنِی بھی کہہ دیا یعنی اے میرے خدا! تو نے مجھے کیوں چھوڑ دیا ؟ اب ایسی حسرت بھری حالت کو دیکھ کر کون کہہ سکتا ہے کہ یہ مامور من اللہ ہے۔جو نقشہ پادریوں نے مسیح کی آخری حالت کا جما کر دکھایا ہے وہ تو بالکل مایوسی بخشتا ہے۔لافیں تو اتنی تھیں کہ خدا کی پناہ۔اور کام کچھ بھی نہ کیا۔ساری عمر میں کل ایک سو بیس آدمی تیار کئے اور وہ بھی ایسے پست خیال اور کم فہم جو خدا کی بادشاہت کی باتوں کو سمجھ ہی نہ سکتے تھے اور سب سے بڑا مصاحب جس کی بابت یہ فتویٰ تھا کہ جو زمین پر کرے، آسمان پر ہوتا ہے اور بہشت کی کنجیاں جس کے ہاتھ میں تھیں۔اس نے سب سے پہلے لعنت کی۔اور وہ جو امین اور خزانچی بنایا ہوا تھا۔جس کو چھاتی پر لٹاتے تھے۔اس نے تیس درم لے کر پکڑ وادیا۔اب ایسی حالت میں کب کوئی کہہ سکتا ہے کہ مسیح نے واقعی ماموریت کا حق ادا کیا۔“ نیز حضور علیہ السلام فرماتے ہیں: 66 ( ملفوظات جدید ایڈیشن ، جلد اول صفحه ۳۴۵،۳۴۴) و سچی بات یہی ہے کہ سب نبیوں کی نبوت کی پردہ پوشی ہمارے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ذریعہ سے ہوئی۔“ ( ملفوظات ، جدید ایڈیشن جلد اول صفحه ۳۴۴) یہ امر ایک کھلی کھلی حقیقت ہے کہ ہمارے پیارے آقا نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم زندگی 11