سیرت طیبہ محبوب کبریا ﷺ — Page 3
لِلْمُتَّقِينَ ( ملفوظات جدید ایڈیشن جلد اوّل صفحہ نمبر ۲۲۶) أطِيعُوا اللهَ وَأَطِيعُوا الرَّسُول کا حکم قرآن مجید میں 19 مرتبہ ہے۔بلکہ فرمایا: مَن يُطِعِ الرَّسُولَ فَقَدْ أَطَاعَ الله ج ( النساء: ۸۱) ” جو اس رسول کی پیروی کرے تو اُس نے اللہ کی پیروی کی۔“ هُدًى لِلْمُتَّقِينَ یہ ہدایت نامہ ہے متقیوں کے لئے اس ہدایت نامہ کے سب سے بڑے عالم اور عامل حضرت محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم ٹھہرے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم كَانَ خَلَقَهُ الْقُرْآنَ “ کے مصداق ہوئے۔چنانچہ تقوی کے سب سے اونچے مقام پر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو خدائے ذوالجلال و الاکرام نے رَحْمَةً لِلْعلمين“ (الانبیائ: ۱۰۸) اور ذِكْرًا رَسُولًا “ (الطلاق: ۱۱-۱۲) کے عالی القاب سے ملقب فرما یا نیز آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے اخلاق کریمانہ کی تعریف میں فرمایا اِنَّكَ لَعَلیٰ خُلُقٍ عَظِيمٍ “ (القلم:۵) آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو ذکر رسول قرار دے کر بارگاہ عالی سے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو جو ہدایت نامہ عطا کیا گیا اُس کو ذِکر مُبرَگ اَنزَلْنَه (الانبیائ: ۵۱) قرار دیا گیا چنانچہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم اس مبارک ذکر پر انتہائی قدم صدق سے گامزن ہوئے اور اُمت مسلمہ کی راہنمائی میں کوئی دقیقہ فروگزاشت نہ کیا کیونکہ خدائے ذوالجلال نے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو فرمایا تھا کہ تو کہہ دے وَأَنَّ هَذَا صِرَاطِي مُسْتَقِيماً فَاتَّبِعُوهُ “ (الانعام: ۱۵۴) کہ یہی میرا سیدھا راستہ ہے پس اس کی پیروی کرو۔“ 3