مسلمانوں کے سائنسی کارنامے

by Other Authors

Page 96 of 128

مسلمانوں کے سائنسی کارنامے — Page 96

179 178 حکایت ہے کہ بصرہ میں ایک تاجر کا بیٹا سکتہ کا شکار ہو گیا۔تاجر نے اطبا کو بلوایا مگر کوئی علاج کارگر نہ ہوا۔آخر میں الکندی کو بلایا گیا۔کندی نے اپنے ایک شاگر د سے کہا کہ سارنگی لاؤ اور فلاں دھن نکالو۔اس دھن میں نہ جانے کیا جادو تھا کہ لڑکا اٹھ بیٹھا۔کندی نے کہا کہ اس کی زندگی کے چند لمحے باقی ہیں اس لئے اس سے جو کہنا ہے وہ کہ لو۔کچھ وقفے کے بعد کندی نے اشارے سے رباب کو روک دیا اور لڑ کا داعی اجل کو لبیک کہہ گیا۔احمد سرخی تلمیذ الکندی (899ء) نے موسیقی، فلسفہ اور منطق میں بہت شہرت حاصل کی۔یہ خلیفہ معتضد عباسی (902-893ء) کا استاد، ندیم و جلیس رہا۔القفطی نے تاریخ الحکماء میں اس کی چوبیس کتابوں کے نام دیے ہیں جیسے کتاب الموسیقی الكبير، کتاب السياسية، کتاب زاد المسافر، کتاب قاطیغورس، کتاب انالوطیقا۔ایک اور عالم ابوالفرج اصفہانی نے عربی میں موسیقی پر چار کتابیں لکھیں۔الفارابی موسیقی کے علم وفن دونوں میں مہارت تامہ رکھتا تھا۔بقول ابن ابی اصبیحہ وہ ایک باجے کا موجد تھا جس سے جذبات انگیز نغمے نکلتے تھے (طبقات الاطباء)۔ابن خلکان نے وفیات الاعیان میں لکھا ہے کہ الفارابی نے جو باجہ ایجاد کیا تھا وہ قانون کے نام سے مشہور تھا۔تذکرہ نگار لکھتے ہیں کہ جب وہ سیف الدولہ کے دربار میں پہنچا تو اس وقت علما کسی مسئلہ پر بحث کر رہے تھے۔پہلے تو وہ دہلیز پر خاموش بیٹھا رہا پھر بحث میں کود پڑا۔سیف الدولہ اس اجنبی کی نکتہ آفرینی سے اس قدر متاثر ہوا کہ اسے اپنے پہلو میں بٹھا لیا۔جب محفل ختم ہوئی تو امیر نے سازندوں کو طلب کیا۔فارابی نے ان کی ساز نوازی اور پھر ان کے راگ پر کڑی تنقید کی۔بعد ازاں اپنی بانسری نکالی اور تین مرتبہ بجائی پہلی لے پر سب ہنسنے لگے، دوسری پر سب رو دیے اور تیسری پر سب سو گئے۔فارابی نے موسیقی پر پانچ کتابیں تصنیف کیں جن میں سے چار یہ ہیں : کتاب المدخل الی موسیقی، کتاب ترتیب النغم، رساله فی الاخبار عن الصنا الموسيقى، كتاب الموسيقه الكبيره (Grand Book of Music) - مؤخر الذکر کتاب میں نظریہ آواز (theory of sound) نہایت عمدہ طریقے سے پیش کیا گیا ہے۔اس کی افادیت کے پیش نظر اس کا فرانسیسی ترجمہ 1935ء میں پیرس سے شائع ہوا۔جبکہ کتاب الموسیقی کا ترجمہ جیرارڈ آف کر یمونا نے 1187ء میں لاطینی میں کیا۔بقول پروفیسر بہتی : "He added a theoretical fifth string to the lute (al-Ud) and thereby reached the double octave without resorting to the shift۔The scale he used is still in vogue۔" [52] ابو الحسن علی ابن نافع زریاب (857-789ء) بغداد سے ہجرت کر کے قرطبہ امیر عبدالرحمن الثانی (852-822ء) کے دور خلافت میں آیا تھا۔اس نے موسیقی کے میدان میں کئی کارنامے سر انجام دیے مثلاً اس نے عود میں پانچواں تار لگایا۔وہ خود ایک زبر دست ماہر موسیقی تھا۔امیر کے دربار میں اس شاہی موسیقار کی تنخواہ دوسوسونے کے دینا تھی۔اس کو ایک ہزار گانے نوک زبان تھے۔اس نے عود کو اسپین میں متعارف کیا۔اس نے قرطبہ میں موسیقی کے ایک اسکول (school of music) کی بنیاد رکھی۔زریاب اپنے دور کا عظیم موسیقار ہونے کے ساتھ فیشن ماڈل بھی تھا۔اس کے کپڑے اس قدر نفیس ہوتے تھے کہ لوگ ان کا استعمال فیشن سمجھتے تھے۔اس نے میز پر میز پوش کو رواج دیا۔اس نے گرمیوں میں سفید کپڑے اور سردیوں میں گہرے رنگ کے کپڑے پہنے کو کہا، نیز موسموں کے بدلنے پر ان کے لیے معین تاریخ دی۔اس نے اسپین میں شطرنج اور پولو شروع کیا۔اس نے چمڑے کے فرنیچر (furniture) کو رائج کیا۔وہ خوش خوراک بھی تھا، اس نے بہت سی نئی غذائی تراکیب کو اسپین میں رواج دیا جیسے اس نے کہا کہ کھانے کی قامیں ایک ایک کر کے پیش کی جائیں اور کھانے کے آخر پر بیٹھا دیا جائے۔اس نے مشروبات کے لیے سونے کے پیالے کے بجائے بلوری گلاس (crystal glass) کا استعمال شروع کیا۔اس نے کھانے کے آداب یعنی ٹیبل میرس(table manners) کو رواج دیا۔اس