مسلمانوں کے سائنسی کارنامے — Page 69
125 i 124 11 علم کیمیا یہ بات مسلمہ ہے کہ مسلمان علم کیمیا (Chemistry) کے موجد تھے۔کیمیا کا لفظ ہی اس بات کی شہادت کے لئے کافی ہے۔علم کیمیا میں بہت سی اصطلاحات عربی سے ماخوذ ہیں۔جیسے زنک آکسائیڈ (tutia) ، زرکون ، الکسیر ، الکحل، انٹی مونی، الکلی ، سوڈا وغیرہ۔عربی کے بعض اصطلاحی الفاظ اس قدر مشکل تھے کہ ان کا ترجمہ ناممکن تھا اس لئے ان کو انگریزی میں معمولی تبدیلی کے ساتھ نقل کر دیا گیا۔جیسے انبیق (alembic)، الکلی ( alkali) کافور ( camphor)، براق (borax)، اکسیر (elixir)، زعفران (saffron)، جمرة ( Jar)، یاسمین ( Jasmine)، قند ( candy)، قهوه ) coffee)، گلاب (Julep) طوفان (typhoon)، تمر ہندی (tamarind)، شراب (syrup)، شربت ( sherbet) ، ، حنا(henna)، شکر(sugar)، اسفناخ (spinach) اور سم سم (sesame)۔مسلمانوں نے اشیا کا نقل (density) معلوم کرنے کا طریقہ نکالا۔انہوں نے علم تصعید اور قلمیں بنانے کے طریقے نکالے۔خوشبودار پودوں سے عطر نکالا۔گن پاؤڈر ( بارود ) ایجاد کیا۔بارہویں صدی تک یورپ میں علم کیمیا پر ایک کتاب بھی موجود نہ تھی۔کیمیا پر جابر اور رازی کی عربی کتب کے تراجم کے بعد اہل یورپ اس علم سے متعارف ہوئے۔اسلامی دور حکومت میں تاجر اور سائنس داں اشیا کا وزن معلوم کرنے کے لئے دو اکائیوں کا استعمال کرتے تھے یعنی درہم اور اوقیہ۔جب مسلمانوں کے علمی خزانے عربی کتابوں کے تراجم کے ساتھ یورپ منتقل ہوئے تو وزن کی یا کائیاں بھی وہاں پہنچیں اور دانشوران یورپ نے ان کو اپنا یا۔اوقیہ آؤنس (ounce) بن گیا اور درہم گرام (gram)۔ہسپتالوں اور فارمیسی میں آؤنس اور گرام کا استعمال دوائیوں کو تولنے کے لئے ابھی تک مستعمل ہے، اس طرح وہ امت مسلمہ کے سنہری دور کی یاد دلاتا ہے۔نمینم کی برهم سلوا هذه كركه بغير ما بل بحوث حزل تفرك بغيره ولاسيا فافهم ذلك ان شاء الله والله ا ده صورة المكركة بغير ما و دست بل يوعدور الجزل والوق بعد حشو المراع بالورد أ ولمسات التور و برهو النور وز مر اننا رخ او التعبوا والهنديا أو بورق الفريسة المزروع بدمشق و هذه هو ما فافهم ذلك ارسنا الله تعالي و بدا بين وهو حسبنا ونعم الوكيل و هوا هممون ارجا انونا موعد الجم مقلوبة يصعد فيه اللهب والدخان بالدخية ومطور عليه بسور مني منله كهذه الداير بين التي في ديل سده الور چودہویں صدی عیسوی میں الدمشقی کی کتاب نخبت الدہر کے ایک مخطوطے میں درج عرق گلاب کشید کرنے کے لیے استعمال کیا جانے والا بھاپ کا تنور مسلمانوں میں علم کیمیا کا آغاز خالد بن یزید نے کیا جو دوسرے اموی خلیفہ یزید کا بیٹا کے تھا۔چونکہ اس کو خلافت سے محروم کر دیا گیا تھا اس لئے اس نے فن کیمیا میں دل لگایا تا کہ کاروبار خلافت سے بے نیاز رہے۔اس مقصد کے لئے اس نے ان یونانی حکماء سے جو اسکندریہ میں