مسلمانوں کے سائنسی کارنامے

by Other Authors

Page 44 of 128

مسلمانوں کے سائنسی کارنامے — Page 44

۔۔74 1۔First to show the generality of sine theorem, 2۔Gave a new method of constructing sine tables, 3۔Calculated a table of tangents, and 4۔Introduced secant and cosecant۔[17] ابوبکر الکرخی (1029-953 ء ، بغداد ) کا لقب الحسیب (calculator ) تھا۔اس نے اصطرلاب و کیفیات عمله و تبار ه - [18] 75 محمد ابن عبدالباقی (1100ء بغداد) نے اقلیدس کی عناصر کے دسویں باب پر شرح لکھی جو بہت مشہور تھی۔جیرارڈ نے اس کا ترجمہ کیا۔لیپزگ سے یہ 1899 ء میں شائع ہوئی تھی۔ایران کے رجلِ عظیم ابن سینا نے 450 کتابیں اور رسائل لکھے جن میں سے 240 ریاضی میں معتبر اور مستند کتابیں تصنیف کیں جیسے الفخری ( الجبر اپر کتاب) علل حساب الجبر، المدخل محفوظ ہیں۔اس نے اکثر تصانیف صبح وشام کے اوقات یا سفر کے دوران گھوڑے پر سوار یا علم النجوم، کتاب نوادر اشکال اور الکافی فی الحساب۔مؤخر الذکر کا قلمی نسخہ استنبول میں ہے۔قید خانے میں لکھیں۔جس شخص کے ایما پر کتاب لکھی اس کا اصل نسخہ اسی کو دے دیا۔اس کی وفات ایڈولف ہوخ ہائم (Adolf Hochheim) نے 1880ء میں اس کا جو جرمن ترجمہ کیا تھا وہ فرینکفرٹ (Frankfurt) سے 1998ء میں دوبارہ شائع ہوا ہے۔عمر خیام (1112-1038ء) قرون وسطی کا سب سے بڑا محقق اور ریاضی داں تھا۔اس کے بعد اس کے عزیز ترین شاگرد ابو عبید جوز جانی نے متفرق مقامات سے کتابیں تلاش کر کے ان کو مدون کیا۔ان میں سے ایک دانش نامہ علائی تھی جسے پڑھ کر روح وجد کر اٹھتی ہے۔اس کی جملہ کتابوں میں سے 40 فلسفے پر اور 40 طب پر ہیں۔اس نے نفسیات، کی کتاب رسالہ فی البراهین علی مسائل الجبر والمقابلہ کا فرانسیسی میں ترجمہ 1851 ء میں حیاتیات، ریاضی ، ہئیت منطق اور ریاضی پر بھی قلم اٹھایا۔کتاب الشفا کا آٹھواں باب ریاضی پر فرانس و د پکے (F۔Woepke) نے کیا۔اس کا انگریزی ترجمہ الجبرا آف عمر خیام، نیویارک ہے۔اس نے ریاضی کو جیومیٹری، بیت ، حساب اور موسیقی میں تقسیم کیا۔جیومیٹری کا سیکشن اقلیدس (Algebra of Omar Khayyam, New York) سے 1931ء میں شائع ہوا۔اس کی کے عناصر پر منحصر ہے۔اس کے علاوہ اس نے مختصر الجسطی، مختصر الاقلیدس، مختصر فی الزاویہ بھی تین اور کتابیں شرح الاشكال المصادرات کتاب اقلیدس، مشکلات الحساب اور زیج ملک شاہی زیب قرطاس کیں۔کتاب النجات میں چار ابواب ریاضی پر ہیں جو بعد میں دانش نامہ ہیں۔اس کی کئی کتا بیں یورپ کے علمی خزائن میں اب تک محفوظ ہیں۔واضح رہے کہ مسلمان ہی (Book of Science میں شامل کر دیے گئے۔دانش نامہ کا فرانسیسی ترجمہ (1958 ,Avicenna, Le Livre de science) پیرس سے شائع ہوا تھا۔اس کے قلمی نسخے برٹش میوزیم لندن میں موجود ہیں۔ٹریکنومیٹری کے موجد تھے۔کوشیار ابن لبان جیلی (1000ء) جیلان کا رہنے والا اور اپنے زمانے کا بہت بڑا ریاضی داں تھا۔ریاضی پر اس کی مبسوط کتاب اصول حساب الہند ہے جس کا ترجمہ پرنسپلس آف ہندور یکننگ ، وسکانسن ،امریکہ,Principles of Hindu Reckoning, Wisconsin قاضی زاده (1436-1364ء، ترکی اعلی قسم کا ریاضی داں اور ہئیت داں تھا۔سمرقند میں وہ الغ بیگ کے دربار میں مقربین میں تھا۔سمرقند میں جب 1421ء میں یونیورسٹی قائم ہوئی 1965 )USA) میں شائع ہو چکا ہے۔اس کی دوسری کتابیں درج ذیل ہیں: فی امتثالات تو اس کو اس کا چانسلر مقرر کیا گیا۔یہاں کی مشہور رصد گاہ کے ڈائریکٹر الکاشی کی رحلت کے بعد وہ 1429ء میں اس کا ڈائریکٹر مقرر ہوا۔ریاضی میں اس نے رسالہ فی الحساب اور الجبرا میں رسالتہ فی الريح الجامع ( مخطوطہ ابا صوفیہ، استنبول میں ہے ) ، تجرید اصول ترکیب الجيوب المدخل في صنعته احکام النجوم ( برٹش میوزیم) ، رساله فی العبد والاجرام ( خدا بخش لائبریری ، پٹنہ )، کتاب الجيب (onsine) لکھا۔علم فلکیات پر رسالہ فی الہنیہ والہندستہ اور رسالہ فی سمت القبلہ قلم بند کیا۔