مسلمانوں کے سائنسی کارنامے — Page 43
73 72 ابوالحسن الاقلید یسی (1980-920 ء شام ) نے دو اہم کتابیں لکھیں یعنی کتاب الفصول في الحساب الہندی اور کتاب الحجاری فی الحساب۔پہلی کتاب کا انگریزی ترجمہ صیدان (Saldan) نے کیا۔وہ پہلا ریاضی داں تھا جس نے ڈیسی مل فریکشنز (decimal fractions) ایجاد کیے۔اگر چہ بعض محققین کہتے ہیں کہ یہ دریافت غیاث الدین الکاشی نے کی تھی۔یورپ میں اس کا سہرا ڈچ (Dutch) سائنس داں سائمن اسٹیون (1620-1548ء Stevin) کے سر باندھا جاتا ہے جو حقائق سے صریحاً انحراف ہے۔اقلیم سائنس کا تاجدار ابن الہیشم بھی ایک ہمہ جہت شخصیت کا مالک تھا۔وہ قرون وسطی کا عبقری مہندس، ریاضی داں، متجر طبیعیات داں، فاضل طب اور زود نولیس مصنف تھا۔اس کی پچاس سے زیادہ کتب ابھی تک دنیا کی مختلف لائیبریریوں میں محفوظ ہیں جن سے علم کے پیاسے فائدہ اٹھا رہے ہیں۔ریاضی پر اس کی ہیں کتابیں ہم تک پہنچی ہیں جن میں سے تین کتابیں اقلیدس کی کتاب عناصر (Elements) سے پیدا ہونے والے اشکالات کا حل پیش کرتی ہیں۔ان کے علاوہ ایک اور تصنیف بعنوان " اقلیدس کے عناصر کے اشکالات کا حل اس کے کئی مخطوطات دستیاب ہوئے ہیں۔اس نے ہلالی شکلوں کی تربیع پر بھی دو کتابیں لکھی تھیں۔اس کی مزید دو کتا ہیں مقالہ فی التحليل والترکیب اور مقالہ فی المعلومات ہیں۔ابن الہیثم کا ریاضی سے متعلق مشہور ومعروف مسئلہ ابن الہیثم (Alhazen Problem) کتاب المناظر جلد پنجم میں بیان کیا گیا ہے۔انٹرنیٹ پر بھی مزید معلومات حاصل کی جاسکتی ہیں۔ریاضی پر اس کی کامل دسترس کا اندازہ اس کی کتابوں کے ناموں سے لگایا جاسکتا ہے مثلاً : شرح اصول اقلیدس، شرح الجسعی و تلخیص، کتاب الجامع في اصول الحساب، فی مسائل الہندسیہ (اس کا مسودہ کتب خانہ ملکیہ ، قاہرہ اور بوڑلین ، آکسفورڈ میں ہے )۔کتاب الجبر والمقابلہ تلخیص علم المناظر اقلیدس و بطلیموس ، مقاله في الحساب الہندی، تحلیل مسائل الهندسيه والعددية ( شماریات پر ) ، کتاب في حساب المعاملات ، فی اشکلال الهلالية ( انڈیا آفس لائبریری ،لندن )۔ابوسهل ويجن بن رستم الکوہی (دسویں صدی طبرستان) بویہ خاندان کے سلطان عضد الدولہ شمس الدولہ ، شرف الدولہ 989-962ء کے زمانے کا ریاضی داں تھا۔وہ بغداد میں شرف الدولہ کے محل کے باغ میں واقع رصد گاہ کا ڈائر یکٹر تھا۔چونکہ وہ آلات رصد بنانے میں بھی کمال رکھتا تھا اس لئے اس نے اپنے بنائے ہوئے آلات رصد گاہ میں نصب کیے تھے۔اس نے ریاضی میں کئی کتابیں سپر و قلم کیں۔ابن الہیشم اور البیرونی نے اپنی کتابوں میں اس کی تصنیفات کا ذکر کیا ہے۔عمر خیام نے اس کو عراق کا ممتاز ریاضی داں لکھا ہے۔اٹھارہویں صدی میں مصر کے محقق مصطفی صدقی نے اس کی کتابوں کی خود کتابت کی تھی۔ابو الوفا البو جانی (999-940 ء ایران ) بھی اپنے دور کا با کمال ریاضی داں تھا۔اس نے ریاضی پر جو شاندار کتابیں لکھیں ان میں سے چند یہ ہیں، تفسیر الخوارزمی فی الجبر والمقابلہ تفسیر کتاب دیو فنطيس في الجبر، کتاب استخراج الملعب ، کتاب المنازل في الحساب ، اس میں علم الحساب کی سات منازل ہیں اور ہر منزل کے سات ابواب ہیں۔اس کتاب میں اس نے سائن ٹیبلز (sine tables) کے علاوہ کسر اعشاریہ (فریکشن ) اور مرکب بھی استعمال کیے۔اس کا مسودہ رضا لائبریری ، رام پور میں محفوظ ہے۔جیومیٹری پر اس نے عمل الہندسہ کھی اور زاویوں کے جیب معلوم کرنے کا نیا کلیہ وضع کیا۔غلام جیلانی برق نے اپنی کتاب ”اسلام کے یورپ پر احسان" صفحہ 215 پر لکھا ہے کہ ابو الوفا کی کتابیں آٹھ سو سال تک یورپ کی درسگاہوں میں زیر مطالعہ رہیں۔یہ بات قابل ذکر ہے کہ ابوالوفا نے اسفیر یکل ٹریگا نومیٹری پر دنیا کی سب سے پہلی کتاب قلم بند کی تھی۔[16] جیومیٹری میں اس نے یکساں مسبع (regular heptagon) جیسے پیچیدہ مسئلے کا آسان حل معلوم کیا۔جارج سارٹن (George Sarton) نے ٹریگا نومیٹری میں اس کے درج ذیل کارنامے گنوائے ہیں: