حضرت سودہ ؓ بنت زمعہ — Page 11
اُم المؤمنین حضرت سودہ بنت زمعہ 11 گے۔ازواج مطہرات نے اس کے ظاہری معنی لئے اور آپس میں ہاتھ نانے شروع کر دیے۔سب سے بڑا اور لمبا ہاتھ حضرت سودہ کا تھا۔لیکن ب سب سے پہلے حضرت زینب کا انتقال ہوا تو معلوم ہوا کہ ہاتھ کی لمبائی سے آپ مے کی مراد مقاوت اور فیاضی تھی۔حضرت سودہ نے حضرت عمرؓ کے دور خلافت کے آخر میں 22 ہجری میں مدینہ میں انتقال فرمایا اور جنت البقیع میں دفن ہوئیں۔(15) پہلے شوہر حضرت سکر ان سے ایک لڑکے عبد الرحمن تھے۔جو 16 ہجری کو بمطابق 637 میں حضرت سعد بن ابی وقاص کی قیادت میں لڑے جانے والے معر کے ”جلولا‘ میں شہید ہوئے۔(16) غرض حضرت سودہ وہ خوش قسمت خاتون تھیں جن کو اپنی نیکی و پاکیزگی کی وجہ سے سب سے بڑے انسان کی بیوی ہونے کا شرف حاصل ہوا اور اس مبارک رشتہ کی بشارت خدا تعالیٰ نے انہیں قبل از وقت دے دی تھی۔آپ اطاعت کا کامل نمونہ تھیں۔جو حکم خداوندی سنتیں اس پر مکمل طور پر عمل کرنے کی کوشش کرتیں۔ہمارے لئے ان کا نمونہ راہ ہدایت ہے یہ ہمارا فرض ہے کہ ہم اس کے کامل اطاعت گزار بنیں جس طرح ہمارے بزرگوں نے اس کی مثال چھوڑی ہے۔اس معزز خاتون پر خدا تعالیٰ کی