چودھویں اور پندرھویں صدی ہجری کا سنگم — Page 77
77 عکس حوالہ نمبر :19 ۱۲۳ التقاه الله تعالى بقائه به نهایت متوجه و خورسند گردیده میرا حرف بحرف و لفظ بلفظ سماع فرمودند و در بعض بعض جا اصلاح نیز نمودند چنانچه در بعضی مقامات که بیاض نکند و بود و آنجا را انگنده بودم بعبارت مور نمودن الحمد ته علی ذلک مقبوس پنجاه و ششم بعداز نمازظهر روز شنبه در جاه بتاریخ بیست و هفتم از ماه رمضان شریف المبارک سال سیزده صد و چهاردهم هجری المقدس دولت پاے بوس وزیارت حضرت اقدس کہ عباد تے وسعاد تے بہتر ازین نیست میسر گردی اندین انار حافظ گمون سکنه حد و دگری اختیار خان نسبت مرزا غلام احمد مصاب رمانی منقط و ناسزا گفتن آغاز کرد همیکه چهره انور حضور خواجہ ابقاه السد تعالی مبقائه متغیر گردید و بران حافظ بانگ زدند در جر نمودند و سے عرض کرد که قبله چون حالت وصفات حضرت عیسی بن مریم علیه سلام و ا و صاف مهدی موعود در مرزا صاحب یافته نمیشوند چگونه اعتبار کنیم که دست علینی و مهدی حضور خواجه ابقاه است تعالی فرمودند که واصان بتادی پوشیده و پنهان بستند آنچنان نیستند که در ولهای مردم نشسته است چه عجب گرامین مرزا صا حب غلام احمد قادیانی مهدی باشد چه در حدیث شریف آمده که در ازده و جال اند پس چندان مهدی اند و در حدیثی دار دشده است که میسی و مهدی یکی است بعد ازان فرمودند که شرط نیست که همه علامات مهدی موافق خیال و فهم مردم که در دامهای خود پنداشته اندظاہر شوند که حافظا امر دیگری است اگر چنین بودی که مردم خیال میکنن پس او را همه خلق مهدی برحق دانسته با دایمان آوردن چنانکه پیغمبران که اسمت برنجی چیند گرده شد سے بر بعضے کسان که حال آن غیر مکشوف شد پس آنها ایمان سے آوردند و بر بعضنے کسان حال آن منجیب میشتیه می شد و بر بعضے کسان ہر گز حال آن پیغمبر مکشوف نہ می گشت از این سبب همین گرده انکار نزول مسیح اور ارشادات نبویہ علی ترجمہ: اسی اثناء میں حافظ مگوں سکنہ حدود گڑھی بختیار خان نے حضرت مرزا غلام احمد صاحب قادیانی کے متعلق نا مناسب اور ناروا باتیں کہنی شروع کیں اس وقت حضرت خواجہ صاحب ابقاه اللہ تعالیٰ ببقائہ کا چہرہ مبارک متغیر ہو گیا اور آپ نے اس حافظ کو تنبیہ کی اور اسے ڈانٹا اس حافظ نے عرض کی قبلہ! جب کہ مرزا صاحب میں حضرت عیسی بن مریم کے حالات اور صفات اور مہدی موعود کے اوصاف نہیں پائے جاتے تو ہم کس طرح اعتبار کر لیں کہ وہ عیسی اور مہدی ہیں۔حضور خواجہ صاحب ابقاه الله ببقائه نے فرمایا کہ مہدی کے اوصاف پوشیدہ اور چھپے ہوئے ہیں وہ اوصاف ایسے نہیں جیسے لوگوں کے دلوں میں بیٹھے ہوئے ہیں پس کیا تعجب ہے کہ یہی مرزا غلام احمد صاحب قادیانی مہدی ہوں۔جیسا کہ حدیث شریف میں آیا ہے کہ بارہ دجال ہیں۔پس اسی قدر مہدی ہیں اور ایک حدیث میں آیا ہے کہ عیسی اور مہدی ایک ہی شخص ہے۔اس کے بعد فرمایا کہ یہ کوئی شرط نہیں ہے۔کہ مہدی کی تمام علامات جو کہ لوگوں کے دلوں میں ان کے اپنے خیال اور فہم کے مطابق بیٹھی ہوئی ہیں ظاہر ہو جائیں۔بلکہ اے حافظ ! بات دوسری طرح ہے اگر اسی طرح ہوتا جیسا کہ لوگ خیال کرتے ہیں تو تمام دنیا مہدی برحق کو جان لیتی اور اس پر ایمان لے آتی۔جیسا کہ پیغمبر ہیں کہ ہر نبی کی امت کئی گروہ ہو گئی بعض پر اس پیغمبر کا حال ظاہر ہی نہ ہوا۔