چودھویں اور پندرھویں صدی ہجری کا سنگم

by Other Authors

Page 282 of 296

چودھویں اور پندرھویں صدی ہجری کا سنگم — Page 282

282 عکس حوالہ نمبر : 78 مسیح موعود پر ایمان لانے کی ضرورت؟ مرقاة شرح مشكورة المو لاوان 292 كتاب الايمان بعض کا کہنا ہے کہ یہ جملہ اس بات کی طرف اشارہ ہے کہ یہ امت ارتکاب بدعات میں بنی اسرائیل وغیرہ سے ایک درجہ بڑھ کر ہوگی۔بعض کا کہنا ہے کہ اُمت سے مراد امت دعوت ہے، چنانچہ اس صورت میں ۷۳ کے عدد میں وہ منتیں بھی شامل ہو جائیں گی جو ہمارے قبلہ پر نہیں ہیں اور ایک احتمال یہ ہے کہ امت سے مراد امت اجابت ہے۔اس صورت میں ۳ے کا عدد ہمارے اہل قبلہ کے ساتھ مخصوص ہوگا۔دوسری بات زیادہ ظاہر ہے۔ابہری جمیلہ سے منقول ہے کہ اکثر کے نزدیک اس سے مراد امت اجابت ہے۔قوله: كلهم في النار الا ملة واحدة "ملة" منصوب ہے، اور مضاف محذوف ہے، ای: الا أهل ملة کیونکہ یہ ایسے اعمال کا ارتکاب کریں گے جو موجب نار ہوں گے۔اپنے غلط عقائد اور بداعمالیوں کی بناء پر دوزخ میں داخل ہوں گے لہذا جس کے عقائد و اعمال اس حد تک فساد انگیز نہ ہوں گے وہ دائرہ کفر میں نہیں آئیں گے اور اپنی سزا کی مدت گزار نے کے بعد دوزخ سے نکال لئے جائیں گے۔قوله: ما أنا عليه و اصحابی : " ا " خبر ہے اور مبتدا محذوف ہے۔ای: هی ما انا عليه الخ زیر نظر حدیث میں جنتی گروہ کو الجماعت" کہا گیا ہے اور اس سے مراد اہل علم اور صحابہ ہیں ان کو الجماعت کے نام سے اس لئے موسوم کیا گیا ہے کہ یہ سب کلمہ حق پر جمع ہیں اور دین و شریعت پر متفق ہیں رہے باقی ۷۲ فرقے اُن کی تفصیلات اہل اسلام نے جمع کی ہیں جن میں زیادہ معروف آٹھ ہیں اور باقی ان کی مختلف شاخیں ہیں اور وہ جو آٹھ معروف ہیں وہ اس طرح ہیں: معتزله شیعه خوارج مرجیہ ) تجاریہ جبریہ مشبہ ناجیہ ۷۲ فرقوں کی تفصیل: معتزله ه مرجیہ ۲۰ ۰۵ ۲۲ خوارج جبرید ۲۰ f ا۔طول ؟؟؟؟؟؟؟ اس کا ایک ظاہر ہے جس کو شریعت کہا جاتا ہے، یہ عام لوگوں کیلئے ہے۔اس کا ایک باطن ہے جس کو طریقت کہا جاتا ہے؟ یہ خاص لوگوں کیلئے ہے۔آگے فرماتے ہیں: وخلاصة خصت باسم الحقيقة معراجا لأخص الخاصة، فالأول نصيب الأبدان من الخدمة، والثاني نصيب القلوب من العلم والمعرفة والثالث نصيب الأرواح من المشاهدة والرؤية قشیری پیے فرماتے ہیں: شریعت نام ہے التزام عبودیت کا اور حقیقت نام ہے مشاہدہ کیوبیت کا۔چنانچہ ہر وہ شریعت جو حقیقت کی تائید سے خالی ہو غیر مقبول ہے، اور ہر وہ حقیقت جو شریعت کے ساتھ مقید نہ ہو غیر محصول ہے۔پس شریعت مامور بہ کے قیام کا نام ہے اور حقیقت نام ہے قضاء و قدر اور مخفی و ظاہر کے شہود کا اور شریعت حقیقت ہے اس حیثیت سے کہ اس کے امرے واجب ہوئی ہے اور حقیقت شریعت ہے اس اعتبار سے کہ اللہ جل شانہ کے معارف بھی اس کے امر سے واجب سوالیہ نشان کی جگہ پر عربی عبارت کا ترجمہ محذوف ہے۔