چودھویں اور پندرھویں صدی ہجری کا سنگم — Page 276
276 مسیح موعود پر ایمان لانے کی ضرورت؟ 8۔مدینہ کے کلمہ گو مسلمانوں کے فریضہ حج پر بھی پابندی تھی۔قریش مکہ نے ہجرت نبوی کے بعد فتح مکہ ہونے تک آٹھ 8 سال کا عرصہ رسول اللہ ﷺ اور صحابہ کو بیت اللہ میں آکر عبادت کرنے سے روکا اور انہیں حج کرنے کی اجازت نہ دی۔(بخاری کتاب المغازی باب ذكر النبي من بقتل بيدرو غزوة الحديبيه) 9۔مدینہ کے کلمہ گو مسلمانوں کی مالی قربانیوں پر بھی کفار مکہ کو سخت اعتراض تھا۔رسول کریم ہے اور آپ کے صحابہ عمر بھر اپنے اموال بطور زکوۃ وصدقات اللہ تعالیٰ کی راہ میں قربان کرتے رہے۔(سورہ الصف 12 ) جبکہ کفار ہمیشہ ان پر حملہ آور ہو کر ان کی محنت کی کمائی کو اپنے لئے حلال جان کر ان کے اموال لوٹنے کے درپے رہے۔(سورہ التوبه: 13) 10 - قریش مکہ شہید کلمہ گو مسلمان شہداء کی نعشوں کی توہین کرنے سے بھی باز نہ آئے۔جنگِ بدر میں شہید ہونے والے مسلمانوں کے ناک کان کاٹ کر ان کی نعشوں کا مثلہ کر کے ان کی بے حرمتی کی گئی۔(بخاری کتاب المغازى باب غزوة بدر) الله کتنا پُر خطر مگر پر استقامت تھا ہمارے نبی ﷺ اور صحابہ کا راستہ کہ جس پر چلنا آج بھی ناجی فرقہ کی سچائی کا نشان اور طرہ امتیاز بن گیا۔مگر اس کے بالمقابل اس راستہ پر چلنے سے روکنے والے کفار قریش کا انسانیت سوز کردار بھی کتنا شرمناک اور بھیانک تھا۔یہ دو واضح کردار آج بھی تقویٰ اور انصاف کی آنکھ سے بآسانی پہنچانے جا سکتے ہیں کہ آج مسلمانوں کے موجود تمام فرقوں میں کونسی کلمہ گو جماعت کس ڈگر پر چل رہی ہے۔اگر 7 ستمبر 1974ء تک کلمہ گو احمدیوں کے خلاف آئینی ترمیم سے پہلے ناجی فرقہ کی پہچان میں کوئی ابہام تھا بھی تو اس کے بعد یہ معاملہ روشن ہو چکا ہے، کیونکہ اسلام کے دعویدار تمام فرقوں نے مل کر بھٹو حکومت کی سرپرستی میں کلمہ گو احمدی مسلمانوں کو قریش دارالندوہ کی طرح اپنی اسمبلی میں عین 7 ستمبر کی ہی تاریخ کو قانونی طور پر ناٹ مسلم قرار دے کر رہی سہی مشابہت بھی پوری کر دی۔اور یوں سب فرقوں نے اپنے عمل سے ناجی فرقہ کو اپنے سے ممتاز اور جدا کر دیا۔اب رسول اللہ کی بیان فرمودہ ان علامات کی روشنی میں ناجی فرقہ کی تلاش ایک تقوی شعار مسلمان کا فرض ہے کہ مذکورہ بالا چند موٹی موٹی نشانیاں جماعت احمدیہ کے علاوہ آج کس فرقہ میں پوری