چودھویں اور پندرھویں صدی ہجری کا سنگم — Page 160
160 زمانہ مہدی کی الہامی شہادات علامه سید نورالحسن خان ابن نواب صدیق حسن خان آف بھوپال کی گواہی اقتراب الساعة ابوالخیر سید نور الحسن خان صاحب کی 1309 ھ کی تصنیف ہے۔اس کا نام اقتراب الساعة سورة القمر کی پہلی آیت اقْتَرَبَتِ السَّاعَةُ وَ انْشَقَّ الْقَمَرُ سے ماخوذ ہے یعنی قیامت قریب آگئی اور چاند پھٹ گیا۔حضرت علامہ ابن عربی نے اس آیت کی تفسیر میں لکھا ہے کہ اس میں امام مہدی کی آمد کی پیشگوئی ہے جو زمانہ دور ان قمر یعنی چودھویں صدی میں تشریف لائیں گے۔1 - اقتراب الساعۃ کے مصنف بڑی شدت سے چودھویں صدی میں مہدی کے منتظر نظر آتے ہیں اور اس کے ظہور کی تمنا کرتے ہوئے لکھتے ہیں کہ : چودھویں صدی کا پہلا سال ہے اور مہدی ابھی ظاہر نہیں ہوئے حالانکہ ان کو تیرھویں صدی میں ظاہر ہونا چاہیے تھا۔پھر اس امید کا اظہار کرتے ہیں کہ شاید چار چھ برس میں چودھویں کے سر پر ان کا ظہور ہو۔2۔پھر کتاب الاشاعة في علامات الساعة کے حوالہ سے لکھتے ہیں: انہوں نے مہدی کے ظہور کا اندازہ بارھویں یا تیرھویں صدی بتایا تھا وہ بھی ٹھیک نہ اترا۔پھر چودھویں صدی کے فتنوں کا ذکر کر کے مہدی کی ضرورت کا ذکر کرتے ہیں کہ اب تو اسے ظاہر ہونا چاہیے۔ملاحظہ ہو عکس حوالہ نمبر 52: اقتراب الساعۃ صفحہ 321 مطبع مفید علم الکائنہ آگرہ 1301ھ افسوس صد افسوس ! باوجود یکہ مصنف کتاب کے زمانہ چودھویں صدی میں ہی مہدی کے دعویدار حضرت مرزا غلام احمد قادیانی صاحب نشانوں کے ساتھ ظاہر ہو چکے تھے مگر موصوف ان کی شناخت سے محروم رہے۔ایں سعادت بزور بازو نیست