سلمان رشدی بھوتوں کے آسیب میں — Page 90
سے بھارت واپس آنیکی التجا کی مگر اس دوران اس نے کیمبرج میں ایک نمائش میں انعام حاصل کیا تھا، اس کے والدین نے اسے مجبور کیا کہ وہ کیمبرج جائے جہاں اسے کچھ کامیابی حاصل ہوئی تھی۔اس نے تاریخ کا مطالعہ کیا خصوصاً ایسی کتب کا جن پر اسلامی دنیا میں پابندی لگائی گئی تھی۔برطانیہ میں اس کی اینگلو انڈین بے جانخوت اور قدامت پسندی ختم ہوگئی اور وہ انتہا پسند بن گیا۔کیمبرج سے وہ پاکستان لوٹ گیا جہاں اس کے والدین نقل مکانی کر چکے تھے۔اسے پاکستان کے نئے قائم شدہ ٹیلی ویژن محکمہ میں ملازمت مل گئی لیکن اپنے منہ پھٹ ہونے اور غیر قدامت پسندانہ خیالات کی وجہ سے اسے سیاسی مخالفت اور مذہبی تعصب کا سامنا کرنا پڑا۔اس وجہ سے اس کا اسلام سے اختلاف اور نفرت زیادہ بڑھ گئی جس کا سہرا وہ اپنے والدین کے سر باندھتا ہے، جیسا کہ رشدی خود کہتا ہے : " یہ بات کہ میری پرورش مذہب سے آزاد گھرانے میں ہوئی یہ میرے والدین کا سب سے بڑا تحفہ تھا" (Waterstone's Magazine, page 7) پاکستان سے خوف زدہ اور بددل ہو کر وہ برطانیہ واپس آگیا اور اشتہارات کا کاپی رائٹر بن کر بمشکل تمام گزارہ کرنے لگا۔بچے کھچے وقت میں حقیقی قلم کاری میں وقت صرف کرنے لگا۔اس کی پہلی شادی برطانوی لڑکی کلاریسالو آرڈ (Clarissa Luard) سے ہوئی جس کے بطن سے اسکا بیٹا ظفر پیدا ہوا ، جو اس وقت تمہیں سال کے لگ بھگ ہے۔بعد میں اس نے اس کو طلاق دے کر ایک امریکن ناول نویس میری این و گنز ( Marianne Wiggins) سے شادی کر لی جس سے اس کی علیحدگی ہو گئی۔پھر اس نے 1990ء میں الیز بیتھ ویسٹ (Elizabeth West) سے شادی کی جس سے اس کا بیٹا ملن پیدا ہوا۔اس کی چوتھی شادی اپریل 2004ء میں ہندو ایکٹریس پر مالکشمی سے ہوئی جو بتیس سال کی تھی جبکہ وہ چھپن سال کا تھا۔اس کے باپ کا انتقال 1987ء میں ہوا، جو اپنے بیٹے کی قسمت کا حال جاننے سے محروم رہا۔اس کی ماں نگین پاکستان میں رہتی ہے۔اس کی تین چھوٹی بہنیں ہیں ہمشین ، نروید اور نبیلہ۔90