سلمان رشدی بھوتوں کے آسیب میں

by Other Authors

Page 74 of 205

سلمان رشدی بھوتوں کے آسیب میں — Page 74

مستشرقین میں مماثلت ایسا معلوم ہوتا ہے کہ مستشرقین کی مذہب اسلام اور خصوصاً محمد ﷺ کی زندگی کے مطالعہ کی اصل غرض ان کی مسخ شدہ تصویر پیش کرنا تھا جس کا پتہ آسانی سے چل جاتا ہے۔تقریباً تمام مصنفین نے گٹھ جوڑ کر لیا ہے کہ وہ ایک ہی نوع کے محدود ماخذوں کا استعمال کریں جن کو وہ پہلے ہی بار بار استعمال کر چکے ہیں۔وہ کسی گھسے پٹے پرانے ریکارڈ کی طرح سنائی دینے لگے ہیں۔انہوں نے محمد (صلعم) کی زندگی کا پس منظر پیش کیا : جزیرہ نما عرب جہاں آپ کی پیدائش ہوئی ، آپ کی ابتدائی زندگی ، آپ کا نبوت کیلئے انتخاب اور آپ کے حالات بوقت وفات یہ سب اس طور سے پیش کئے گئے کہ آپ محض ایک انسان تھے جس سے غلطی سرزد ہو سکتی تھی اور آپ پر رسوا کرنے والی بد قسمتی وارد ہو سکتی تھی۔(فی الحقیقت یہ بعینہ وہی طریقہ واردات ہے جسے سلمان رشدی نے اپنے رسوائے زمانہ ناول میں استعمال کیا ہے۔) مستشرقین کی مدتوں سے یہ عادت چلی آرہی تھی کہ وہ ایک ہی قسم کے موضوعات پر گزشتہ مؤقر مصنفین کے حوالہ جات دیتے تھے۔ان کے مآخذ بہت محدود ہوتے تھے۔جیسا کہ خود ڈاکٹر ڈینیئل نے فرانسیسی مستشرق ری لینڈ (Reland) کی کتاب De Relgione' 'Mohammedica سے حوالہ دیا ہے: " اگر کبھی کوئی مذہب دشمن کے ہاتھوں بگاڑ کر پیش کیا گیا ہے تو یہ مذہب اسلام تھا۔یہ رواج تھا کہ جس نو جوان میں محمدی مذہب کے جاننے کا جوش اور جذبہ پیدا ہوتا اسے بشمول کیتان (Ketton) پرانے صائب الرائے لوگوں کے پاس بھیج دیا جاتا تھا بجائے اسکے کہ اسے یہ مشورہ دیا جائے کہ عربی زبان سیکھے تاکہ محمد کی باتیں اس کی زبان میں سن سکے۔" (صفحہ 295) ری لینڈ نے یہ اصول قائم کیا کہ اسلام کے بارہ میں حقائق کی واحد سند صرف مسلمان ہی کو حاصل ہوگی۔اور یہی دلیل نصف صدی قبل ایڈورڈ پو کاک سینئیر (Edward Pocock Sr) نے بھی دی تھی۔ڈاکٹر ڈینیل کہتا ہے کہ اسلام پر اکثر علمی حملے جو قرون وسطی میں ہونا شروع ہوئے وہ نہایت پائیدار ثابت ہوئے اور ان کا آجکل کی مغربی سوچ پر گہرا اثر ہے۔74