سلمان رشدی بھوتوں کے آسیب میں — Page 73
گئی۔قرآن پاک کی برتر اور ہمدردی والی تعلیم جس کی عملی تفسیر نبی پاک (صلعم) نے فرمائی اس کو درخور اعتناء نہیں جانا جاتا۔یہ تبدیلی دین بزور جبر کی تصویر دیدہ و دانستہ طور پر کھینچی گئی تا کہ عیسائیت سے نکل کر اسلام قبول کرنے والوں کی رفتار کی روک تھام کی جاسکے۔لیکن یہ تصویر اس دور میں لفظاً ایک خاکہ کے طور پر پیش کی گئی تھی اور مغربی مستشرقین نے ہر موقعہ سے فائدہ اٹھاتے ہوئے اسے دنیا کے سامنے پیش کیا۔گزشتہ کئی صدیوں سے لیکر زمانہ حال تک مسلمانوں کے دلوں میں ہمیشہ ہی سرور کائنات کی ایسی عزت و تکریم رہی ہے کہ آپ کی ذات مبارک کی تصویر کشی یا خا کہ کشی ممنوع قرار دیدی گئی۔لیکن بعض مستشرقین نے بے حسی کا ثبوت دیتے ہوئے اس کے عین الٹ کیا۔ڈاکٹر ڈینیئل کا بھی اس زمرہ کے بے حس مصنفین میں شمار ہوتا ہے۔اس نے کہیں سے اس قسم کی تصویر تلاش کر کے اپنی کتاب میں شامل کی ہے۔تصویر کے ساتھ جو نوٹ لکھا گیا ہے وہ بھی سنگدلانہ ہے۔ڈینیئل نے اسے "سیاہی سے تیارہ شدہ محمد کا خاکہ کا نام دیا جو عہد وسطیٰ کے ایک مسودہ سے لیا گیا جس میں وہ اکیلا پڑا نظر آتا ہے۔اس کا مقصد بظاہر کسی اصل عبارت کی وضاحت کرنا نہ تھا“۔(صفحہ 134) اس خا کہ میں محمد (صلعم) کی تصویر اس طور سے دی گئی ہے کہ دائیں ہاتھ میں تلوار ہے۔تلوار کے ایک کونے سے لیکر دوسرے کونے تک یہ الفاظ کندہ ہیں: "gladius Mahumeti pictus" بائیں ہاتھ میں قرآن ہے جس کی جلد پر لکھا ہے "lex et alcoranus"۔اسلام کی یہ وہ خیالی تصویر ہے جسے دشمنان اسلام نے پیش کیا ہے۔حضور نبی پاک ﷺ کے گلے میں تعویذ لٹک رہے ہیں جس کا مطلب یہ ہے کہ آپ قسمت کا حال بتانے والے، شیطان کو نکالنے والے، ایک ایسے شخص تھے جو اپنے جادو سے لوگوں کو مسحور کر کے ان سے مذہب تبدیل کروالیتا تھا۔گویا یہ کافی نہ تھا۔ڈاکٹر ڈینیئل کی گستاخی اور دیدہ دلیری ملاحظہ کیجئے جب وہ تجویز کرتا ہے کہ اس قسم کا برتا وا عزت افزاء ہے۔ایسا سوچ کر انسان کے رونگٹے کھڑے ہو جاتے ہیں کہ اگر محمد ﷺ کی عزت افزائی والی تصویر کشی اس نوعیت کی ہے تو پھر اگر ہتک آمیز تصویر کشی کی جائے تو اس کا کیا نتیجہ ہوگا ؟ 73