سلمان رشدی بھوتوں کے آسیب میں — Page 70
کیلئے تھے۔امر ثانی یہ ہے کہ اس پر انسانی کمزوریاں غالب آسکتی تھیں ، اسے زوال و عروج سے گزرنا پڑا۔عام زندگی میں قسمت کا اتار چڑھاؤ اس کی تاریخ ظاہر کرتی ہے " (صفحہ 96) ڈینٹل بھی گزشتہ مستشرقین کے گھسے پٹے راستوں پر گامزن ہے جس طرح وہ محمد (صلعم) کے کردار پر شہوت پرستی کا الزام عائد کرتا ہے۔اس مقصد کے لئے متعدد صفحات ضائع کر دئے گئے لیکن میں صرف ایک ہی حوالہ دیتا ہوں جس کا بیان تکلیف دہ ہے۔لیکن اس مثال سے قاری کو مصنف کے بدارا دوں اور کینہ پروری کا اندازہ ہو جائیگا : " شاید عہد وسطی کی مقبول ترین کہانی محمد کی زینب بنت جحش سے شادی زید بن حارثہ سے طلاق ہونے کے بعد کی ہے۔یہ کہانی اپنے اندر پولیس کی چوکی کے کردار کی مقبول عام فریا د رکھتی ہے۔یعنی منہ بولے بیٹے کی بیوی کے ساتھ قریب قریب زنا محمد نے جب خود کو انسانی جسم کی حرص کی مدافعت کے قابل نہ پایا تو خصوصی وحی کو اپنے لئے بطور جواز کے استعمال کیا۔" (صفحہ 97) اس دور کے عیسائی مناظرین کے ان تمام الزامات اور دعاوی کیساتھ ، عہد وسطی کے عیسائیوں نے یہ نتیجہ اخذ کر لیا کہ محمد کے عورتوں کے ساتھ ( مزعومہ ) برے سلوک نے یہ ناممکن بنادیا کہ وہ نبی بننے کا حقدار تھا۔صلى الله آنحضور ﷺ کی وفات رسول کریم ﷺ کی وفات کے موضوع پر مختلف النوع اور نا قابل یقین کہانیاں گھڑ لی گئی تھیں۔سوانح نگاروں کے نزدیک اولیاء کی اموات ایک خاص اہمیت کی حامل ہوتی تھیں اور عہد وسطی کی روایات کے مطابق محمد (صلعم) کی وفات، جو کہ ولی کے متناقض ہے، کو بھی مذہبی اہمیت کا حامل سمجھا گیا۔اسے ایسے طور پر پیش کیا گیا جیسے یہ بے رحمی کی وحشتناک موت تھی۔بعض دفعہ ایسے گویا ایک عام انسان کی موت جس پر خدا کی خاص رحمت کے نشانات ظاہر نہ ہوئے ہوں۔ان افتراؤں میں سے بعض کا بیان بہت درد ناک ہے۔اور ان کا کسی قسم کی زیادتی یا کم تفصیل سے کسی پڑھنے والے کو سزا دینا بے حرمتی کا مصداق ہوگا۔اگر کسی کو نبی کریم ﷺ کے وصال کی جو جھوٹی کہانیاں گھڑ لی گئیں ان کی تفصیل میں جانے کی خواہش ہے تو اسے چاہئے کہ وہ 70