سلمان رشدی بھوتوں کے آسیب میں

by Other Authors

Page 69 of 205

سلمان رشدی بھوتوں کے آسیب میں — Page 69

یہ ظاہر کرسکیں کہ محمد صلم نبی نہیں تھے تو پھر اسلام کا سارا تانا باناٹوٹ گیا۔ڈاکٹر ڈینیئل مزید کہتا ہے کہ اس مفروضہ کا الٹ بھی صحیح متصور ہوگا۔یہ الفاظ دیگر اگر عیسائی مناظر یہ ثابت کر سکیں کہ محمد (صلعم) ایک بچے اور صادق نبی تھے تب اسلام نصرانیت کیلئے حقیقی خطرہ ثابت ہو جائیگا۔پس لازمی تھا کہ (صلعم) کو سچا نہ ثابت ہو سکنے کیلئے ان میں نقائص نکالے جائیں۔یہ ثبوت کہ "محمد نے نبی کا لقب جھوٹے طور پر اختیار کیا اس کی واشگاف وضاحت کرنی ضروری تھی"۔(صفحہ 67) تو یہ کام عیسائی مصنفین کا مرہون منت ہوا۔ڈاکٹر ڈینئیل ، پیٹر دی وینیر یبل ( Peter the Venerable) کا حوالہ اور خاص کر پیڈ روڈی الفانسو (Pedro de Alfonso) اور پیٹر آف پائیٹیٹر ( Peter of Poitier) کے حوالہ جات دیتا ہے جن کی مجموعی اسکیموں کا خلاصہ یہ ہے کہ "محمد نبی ہو ہی نہیں سکتا کیونکہ وہ تو ایک لٹیرا، قاتل، دغا باز اور زنا کار تھا " نیز یہ کہ قرآن کریم کی تعلیمات "جو شرمناک اور متضاد ہیں انکی تصدیق معجزات سے نہیں ہو سکتی"۔(صفحہ 68) ڈاکٹر ڈینئیل مزید کہتا ہے : "اسلام میں جو وحی کے نزول کا دعوی پا یا جاتا ہے محمد کی زندگی اس کو غلط ثابت کرتی ہے اور اس کو سب سے منفی ترین ثبوت سمجھا گیا۔اس مقصد کیلئے مصنفین نے تسلیم کر لیا اور یہ ظاہر کرنے کی خواہش کی کہ محمد نچلے طبقہ میں پیدا ہوا اور شروع ہی سے بت پرست تھا جس نے ریشہ دوانی سے طاقت پر قبضہ کر لیا اور مزعومہ الہامات کا بہانہ تراش کر اپنی طاقت کو قائم ودائم رکھا۔جس نے اپنی طاقت کو تشدد کے وسیلہ سے پھیلایا اور اسے وسعت دینے کیلئے دوسروں کو شہوت پرستی کی اجازت دی جس کا وہ خود بھی عادی تھا۔" (صفحہ 79) مغربی مستشرقین کی کتب کے حوالہ سے ڈاکٹر ڈینیئل نے اسلام کے بگڑے ہوئے تصور کی خاکہ کشی کی جو کوششیں کی ہیں وہ بجا مگر وہ خود عیسائی چرچ کے عقائد کا شکار بن گیا۔اور یہ واضح طور پر تب سامنے آتا ہے جب وہ اپنی تحریروں میں یہ ظاہر کرنے کی کوشش کرتا ہے کہ محمد کے خلاف اتہامات میں کچھ تو صداقت ہونی چاہئے کیونکہ ہر کوئی اس امر کی طرف اشارے کنائے کر رہا ہے۔محمد کی سوانح کے جو واقعات قلم بند کئے گئے ہیں ان کا حقیقت سے جو تعلق ہے، افسانوی واقعات کے قطع نظر جو کچھ کہا گیا ان میں دو موضوع پے در پے ابھرتے ہیں۔محمد تشدد پسند تھا، اس نے جنگ دوسروں پر تھوپی اور لوٹ مار کیلئے بے احتیاطی سے قتلوں کے جو احکامات صادر کئے وہ ذاتی اغراض 69