سلمان رشدی بھوتوں کے آسیب میں

by Other Authors

Page 64 of 205

سلمان رشدی بھوتوں کے آسیب میں — Page 64

سکتے تھے۔یہ موضوع شرارت پسندوں کیلئے مضحکہ خیز اور اُکسانے والا بن کر رہ گیا ہے۔مغربی مستشرقین جنہوں نے اس موضوع کو اچھالا اور تمام دنیا کے سامنے اس کا ڈھنڈورا پیٹا۔ایسے ویسٹرن سکالرز جنہوں نے معقول اور منطقی غور و فکر کے بعد نیک خیالات کا اظہار کیا لیکن ان کو کلیتا عوام کے سامنے پیش نہ کیا کہ اب کوئی ان کتب کی طرف توجہ بھی نہیں دیتا۔مثال کے طور پر پروفیسر لور اویشی و گلیری ( Prof۔Laura Veccia Vaglieri) جو یو نیورسٹی آف نیپلز میں عربی اور اسلامک کلچر کی تدریس کا کام کرتی تھیں ، اس نے درج ذیل خیالات کا اظہار کیا ہے: اعداء اسلام نے محمد کو ایک ہوس پرست انسان اور بدچلن شخص کے طور پر پیش کر کے ان کی ازدواجی زندگی میں کمزور پہلو تلاش کرنے کی کوشش کی ہے جو ان کے مشن سے مطابقت نہ رکھتا تھا۔وہ اس حقیقت پر غور کرنے سے انکار کرتے ہیں کہ زندگی کے اس دور میں جب انسان کے اندر شہوانی قوت بہت زیادہ ہوتی ہے ، اگر چہ وہ اس وقت عرب لوگوں کے معاشرہ میں رہتا تھا جہاں تعدد ازدواج کا قانون چلتا تھا جہاں طلاق دینا بہت آسان تھا وہ صرف ایک عورت سے بیاہا ہوا تھا یعنی خدیجہ سے جو ان سے عمر میں کافی بڑی تھی اور یہ کہ پچیس سال تک وہ خدیجہ سے پیار کرنے والا وفا دار شوہر رہا۔صرف اس وقت جب اس (خدیجہ ) کی وفات ہوئی اور وہ خود عمر میں پچاس سال سے زیادہ تھا تب اس نے ایک سے زیادہ مرتبہ شادی کی۔ان شادیوں میں سے ہر ایک شادی کا کوئی نہ کوئی معاشرتی یا سیاسی پہلو تھا۔ماسواعائشہ کے اس نے ایسی عورتوں سے شادی کی جو نہ تو کنواری تھیں نہ ہی نوجوان اور نہ ہی خوبصورت۔کیا اس چیز کا نام شہوت پرستی ہے؟ (An Interpretation of Islam, pp 67-68) رسول اکرم ﷺ کی حضرت عائشہ سے شادی کرنے کی بڑی وجہ یہ تھی کہ وہ زندگی بھر لوگوں کی اسلامی طریق سے تربیت کر سکیں خاص طور پر عورتوں کی۔حضرت عائشہ نے اس فرض کو غیر معمولی رنگ میں احسن طور پر سر انجام دیا۔اور نہ صرف نبی پاک ﷺ کی زندگی میں بلکہ اس کے بعد بھی عرصہ دراز تک لوگوں کی رہ نمائی کا بہت بڑا ذریعہ ثابت ہوئیں۔اس قسم کی تھی حضرت محمد (صلعم) کی دور اندیشی۔64