سلمان رشدی بھوتوں کے آسیب میں

by Other Authors

Page 63 of 205

سلمان رشدی بھوتوں کے آسیب میں — Page 63

سے اپنے دشمنوں کے خلاف وحشیانہ عمل سرزد کرتے تھے۔وہ کہتا ہے: "ہم نے دیکھا ہے کہ محمد کے پاس بعض ایسے دیوانے نوجوان کارندے تھے جو عملاً اس کی انگلیوں کے اشاروں پر ناچتے تھے۔جو اس موقعہ ملنے کے انتظار میں رہتے تھے کہ جہاں کہیں بھی ضرورت پڑے مخالفت کو پھل کے رکھدیں۔" (صفحہ 224-223)۔پھر وہ مزید لکھتا ہے: "محمد نے اپنے چیلوں کو مکمل آزادی دے رکھی تھی۔" (صفحہ 184)۔روڈنس کمینگی میں کس قدر گر گیا ہے کہ نبی پاک ﷺ کی پاک زندگی کے حقائق و واقعات کو بیان کرنے میں وہ مکاری اور تصنع سے کام لیتا ہے۔میکسم رو ڈنسن دوسرے مستشرقین سے چنداں مختلف نہیں۔یہ سب ایک ہی قبیل کے ہیں جب وہ دوسروں کی ہاں میں ہاں ملا کر نبی پاک ﷺ پر تہمت لگاتا ہے کہ وہ (نعوذ باللہ) اوباش تھے۔آپ (صلعم) پر الزام تراشا گیا ہے کہ انہیں نو جوان اور پری پیکر عورتوں کی خواہش رہتی تھی : " اگر چہ ہم جانتے ہیں کہ زندگی کے اواخر میں اس میں عشق لڑانے کا میلان ہو گیا تھا ہم بمشکل تصور کر سکتے ہیں کہ ایسے کئی مواقع پیدا الله نہیں ہوئے ہوں گے جب۔۔۔اس نے دل میں ( کسی سے ) زنا کرلیا ہو"۔(صفحہ 55) ما سوا چند قابل تکریم استثناؤں کے اہل مغرب نے وہ سب کچھ نظر انداز کر دیا جو چودہ صدیوں سے رسول کریم ﷺ کی زندگی اور اسلام میں واضح طور پر جو اچھائی اور نیکی پائی جاتی تھی۔جب انہیں آپ کے پاک نمونہ اور نظریات کا سامنا کرنا پڑا تو کمزور اور نا قابل ثبوت حیلے بہانے ڈھونڈ نے شروع کر دئے۔رسول اکرم ﷺ پر بہتان لگانا مغربی مستشرقین کا محبوب مشغلہ رہا ہے۔ان بہتانوں میں سے ایک یہ ہے کہ اواخر عمر میں آپ ہوس پرست ہو گئے تھے۔یہ ایک شرعظیم ہے جس پر ذرا بھی توجہ دئے بغیر فور مستر د کر دینا چاہئے۔اس لئے کہ یہ آپ کی پاک زندگی اور نیک کردار کے سخت ناموافق ہے۔اس دعوی کو مان لینا کہ تعدد ازدواج اعلیٰ درجہ کی روحانیت کی نفی ہے ہرگز کوئی وقعت نہیں رکھتا۔یادر ہے کہ تمام بڑے بڑے مذاہب کی الہامی کتب میں تعدد ازدواج کو ممنوع نہیں قرار دیا گیا۔تمام یہودی انبیاء کی ، بشمول حضرت موسیٰ علیہ السلام کے ، متعدد ازواج تھیں۔ان انبیاء میں سے کسی ایک نے بھی یہ دلیل کبھی پیش نہیں کی کہ اس وجہ سے وہ صالح زندگی نہیں گزار 63