سلمان رشدی بھوتوں کے آسیب میں — Page 58
نبی پاک ﷺ کے دور میں جانکالتا ہے: کئی ایک احادیث اور ابتدائی دور کے مسلمانوں کے واقعات ایسے پائے جاتے ہیں کہ جن سے اس اصول کو تقویت ملتی ہے کہ یہودیوں اور عیسائیوں کے ساتھ مذہبی امور پر بحث کرنا خوشگوار نہیں۔جب خلیفہ عمر محمد ( ﷺ) کے پاس یہودیوں یا عیسائیوں کی ایک کتاب لے کر آئے تو مؤخر الذکر ناراض ہو گئے " صلى الله (Muslim-Christian Encounters, page 43 ) سر میملٹن گب (Sir Hamilton Gibb ) اس زاویہ نظر سے ایک قدم اور آگے نکل گیا ہے۔وہ اپنی کتاب میں کہتا ہے کہ علماء کے لئے اسلامی تاریخ کو پیش کرنے کے لئے امذہبی اجازت نامہ حاصل کرنا ضروری ہو گیا۔تاکہ اس کے بارہ میں اگر سوال اٹھایا جائے تو اسے کفر سمجھا جائیگا۔(Modern Trends in Islam, University of Chicago Press, 1947, page 125) انہوں نے اسلام کی کیسی مسخ شدہ اور غلط تصویر پیش کی ہے؟۔یہ محمد ( ﷺ) ہی تھے جنہوں نے نہ صرف اہل کتاب کے ساتھ بلکہ کفار کے ساتھ بھی رواداری اور تکریم کے ساتھ برتاؤ کا سب سے بڑا عملی نمونہ پیش کیا۔سرکار دو عالم ﷺ نے نہ صرف مذہبی امور میں رواداری سے کام لینے پر زور دیا بلکہ انہوں نے ایک بلند معیار قائم کیا۔مثال کے طور پر ایک واقعہ بیان کیا جاتا ہے۔عیسائی قبیلہ نجران کے ایک وفد نے مدینہ میں آپ (صلعم) سے ملاقات کی تا کہ مذہبی امور میں تبادلہ خیالات کر سکیں۔وفد میں چرچ کے کئی عمائدین بھی شامل تھے۔گفتگو مسجد ( نبوی ) میں ہوئی اور کئی گھنٹوں تک جاری رہی۔ایک مرحلہ پر آن کر وفد کے عمائدین نے مسجد سے باہر جانے اجازت چاہی تاکہ کسی مناسب جگہ پر عبادت کر سکیں۔سرکار دو عالم (صلعم) نے فرمایا کہ انہیں مسجد سے باہر جانے کی ضرورت نہیں۔کیونکہ وہ تو خدا کی عبادت کی جگہ ہونے کی وجہ سے مقدس ہو چکی ہے اور انہیں مسجد ہی میں عبادت کر لینی چاہئے۔"( زرقانی) یقینی طور پر کہا جا سکتا ہے کہ نبی پاک ﷺ کی زندگی میں ہونے والے متعد دواقعات میں سے یہ ایک واقعہ ایسا ہے جس میں تکریم اور رواداری کو اپنی بلندی کو چھوتے دیکھا گیا ہے۔اس کی نظیر کسی دوسرے مذہب یا پیغمبر میں نہیں ملتی۔یہ اسلام کی آفاقیت کے خلاف محض حسد و کینہ اور اس 58