سلمان رشدی بھوتوں کے آسیب میں

by Other Authors

Page 44 of 205

سلمان رشدی بھوتوں کے آسیب میں — Page 44

زوال پذیر مغل حکومت سے بہتر ہے اور مزید یہ کہ اگر وہ فلاح و بہبود کے خواہاں ہیں تو ان پر یورپین سائنس اور علوم کی تحصیل لازم وملزم ہے۔پھر بعض لوگ ایسے بھی تھے جنہوں نے نا سمجھی اور سادگی میں یہ فرض کر لیا کہ برطانوی عیسائی اسلام کو تباہ کرنے کے خواہاں نہیں بلکہ اس کے حقیقی خیر خواہ ہیں۔اور وہ مسلمانوں کو معاشرتی ، سیاسی اور اقتصادی طور پر ترقی کرتے دیکھنا چاہتے ہیں۔لیکن انہوں نے ایک بہت بڑے خطرہ کو نہ بھانپا تھا جوان کی ترقی کو روک دے گا یافی الواقعہ تر قی کا آغاز ہونے سے پہلے ہی ختم کر دے گا۔مسلمانوں کی مادی، معاشرتی اور علمی و ذہنی ترقی میں سب سے بڑی رکاوٹ ان کا مذہب کی طرف قدامت پسند رجحان تھا۔اس لئے اس مسئلہ پر قابو پانے کے لئے آزاد خیال مصلحین نے دینِ اسلام کے بنیای اعتقادات پر از سر نو غور کرنے کی ضرورت محسوس کی اور بعض پہلوؤں میں نرم برتاؤ کا پرچار کیا تا کہ اپنی لادینی امنگوں کے لئے جگہہ پیدا کر سکیں۔اور جیسا کہ انسانی فطرت کا تقاضا ہے جب اصولوں میں نرمی اور کسی طرح کا ڈھیلا پن آجائے اور جب اصلی تعلیم سے انحراف شروع ہو جائے اور اپنے اعتقادات پر معذرت خواہی سے کام لیا جائے اور انسان سمجھوتہ کرنا شروع کر دے، تو گمراہی کے راستہ کی کوئی انتہا نہیں رہتی۔آہستہ آہستہ مگر یقینی طور پر وہ قعر مذلت میں گر جاتے ہیں۔سرسید احمد خاں سے عمر میں چھوٹے مگر ان کے ہمعصر مشہور ہندوستانی جدت پسندسید امیر علی نے 1873ء میں اسپرٹ آف اسلام کے نام سے کتاب لکھی جو جلد ہی اسلامی آزاد خیالی کا دستور عمل بن گئی۔کتاب کے ایک کثیر حصہ میں سرکار دو عالم کے بعض ان افعال پر معذرت کی گئی ہے جن پر غیر مسلم محققین اکثر تنقید کرتے آئے ہیں۔امیر علی مغربی مستشرقین کے جادو کا ایک اور شکار بن گیا۔یہ اسی قسم کے آزاد خیال مفکرین ہی تھے جنہوں نے اسلام کی وحدانیت اور کڑی سادگی کا بہ نسبت یورپین طرز حیات کے قبول کرنے میں تناقض دیکھا۔یہ اسی قسم کے آزاد خیال لوگ ہی تھے جنہوں نے جانتے بوجھتے اس بات سے آگاہ کیا کہ متعدد اسلامی قوانین فرسودہ ہو چکے ہیں اور موجودہ زمانے کے لئے موزوں نہیں۔وہ اسلامی قوانین کو معنوی نہ کہ لفظی لحاظ سے قابل قبول سمجھتے 44