سلمان رشدی بھوتوں کے آسیب میں

by Other Authors

Page 43 of 205

سلمان رشدی بھوتوں کے آسیب میں — Page 43

مسلمانوں کی آزاد خیالی عین اس وقت جب اسلام کی طرف واپس لوٹنے کی تحریک ( بنیاد پرستی ) شروع ہوئی ، مغربی تعلیم تک رسائی ممکن ہوگئی اور مغربی مصنفین کی طرف سے اسلام کا منفی استحسان جب شروع ہوا تو مسلمان سکالرز کے ذہنوں میں آزاد خیالی نے جنم لینا شروع کر دیا۔مستشرقین نے اس سے خوب فائدہ اٹھایا جنہوں نے یہ کہنے کی کوشش کی تھی کہ مسلمانوں کے اخلاق اور عادات و اطوار دگرگوں ہو چکے ہیں جس کی بڑی وجہ سخت اور کٹر اسلامی قوانین ہیں۔مغربی معاشرہ میں قبولیت حاصل کرنے کیلئے انہیں بعض پرانی رسوم کو ترک کر دینا ہوگا اور انہیں مذہب کے بارہ میں اپنے قدامت پسند رویہ کو ڈھیل دینا ہوگی۔گذشتہ صدی کے نصف سے لے کر موجودہ زمانے تک اسلامی طرز فکر کی بلا شبہ تشکیل نو ہوئی ہے۔بعض قدامت پسند مصلح بھی پیدا ہوئے جن کا مطمح نظر یہ تھا کہ اسلام میں جو غیر اسلامی باتیں درآئیں ہیں ان کی تطہیر کی جائے نیز قرآن اور دور قدیم کی روایات کی طرف رجوع کیا جائے۔اس کے برعکس آزاد خیال مصلحین کی رائے میں دارالاسلام کی تطہیر اور تجدید وقتی تقاضوں کے ساتھ ساتھ ہونی چاہئے۔انیسویں اور بیسویں صدی میں بعض آزاد خیال علماء بھی ہوئے ، ان میں خاص طور پر جمال الدین افغانی (97-1839) محمد عبدہ (1905-1849) اور سرسید احمد خاں (98-1817) قابل ذکر ہیں جنہوں نے ہندوستانی مسلمانوں کے خیالات کو بہت متاثر کیا۔برٹش ایسٹ انڈیا کمپنی ہندوستان میں ایک طاقت ور ادارہ تھی اور اس کا کولونیل سامراج کے قیام میں حد درجہ عمل دخل تھا۔اس کا مقامی باشندوں کی آبادی جو ہندؤں ، عیسائیوں اور مسلمانوں پر مشتمل تھی ، گہرا اثر ورسوخ تھا۔جوں جوں وقت گزرتا گیا عوام الناس برطانیہ سے فرمانبرداری اور وطن سے حب الوطنی میں بٹ کر رہ گئے۔کئی لوگوں نے جن میں ہندوستانی مسلمان بھی شامل تھے، فیصلہ کیا کہ انہیں اعلانیہ طور پر اظہار کر دینا چاہئے کہ وہ تخت برطانیہ کے فرمانبردار ہیں۔نیز یہ کہ ان کی نجات صرف مغربی علوم کے سیکھنے میں ہے۔ان دو مقاصد کے مدنظر ان کو یقین ہو گیا کہ برطانوی حکومت بظاہر 43