سلمان رشدی بھوتوں کے آسیب میں

by Other Authors

Page 25 of 205

سلمان رشدی بھوتوں کے آسیب میں — Page 25

رسومات منانے کی اجازت دی گئی تھی، اور ان ستمگر مسلمانوں نے ان کے گرجا گھر تعمیر کرنے میں ان کا ہاتھ بٹایا۔ایک اور مؤرخ ہیو ٹریور رو پر (Hugh Trevor-Roper) نے اپنی کتاب میں صلیبی جنگوں کے مشکوک عزائم پر تبصرہ کیا ہے جس کا یورپ کی توسیع کے پلان میں پورا حصہ تھا۔یروشلم میں مقدس مقامات کو آزاد کرانے سے اس کا ہرگز کوئی تعلق نہ تھا۔وہ کہتا ہے " ہسپانوی عیسائیوں کی پین میں مسلمانوں پر پیش قدمی اور مشرقی یورپ میں جرمن نو آبادکاروں کے سلاوک قوم کے خلاف پیش قدمی، اور انگلستان کے اینگلو نارمن جا گیر داروں کا آئر لینڈ پر قبضہ، اور شمالی فرانس کے جاگیر داروں کا لینگوئے ڈاک (Languedoc ) پر قبضہ، اور خود بازنطینی سلطنت پر فرینک جا گیر داروں کی فتحیابی کو دیکھ کر ہمیں باور کرنا پڑتا ہے خواہ ہم اسے پسند کریں یا نہ کریں کہ صلیبی جنگیں اس نو آبادیاتی توسیع کا لازمی حصہ تھیں۔مغربی مؤرخین کی ایک عرصہ سے یہ رائے چلی آرہی ہے کہ صلیبی جنگیں غلامی میں جکڑے ہوئے اہل مغرب کا جن کا مسلمانوں نے استحصال کیا تھا ان کے خلاف روحانی اور مادی جوابی حملہ تھا۔اور اس جد و جہد کو مشرق اور مغرب یا اسلام اور دنیائے عیسائیت کے درمیان سنسنی خیز بنا کر پیش کیا گیا۔بعض نے تو صلیبی جنگوں کی تحریک کو مسلمانوں کے خلاف اعیسائی جہاد کا نام دیا ہے۔تاریخ کی کتابوں میں مذکور ہے کہ صلیبی عیسائیوں کا اصل اور حقیقی محرک مقدس مقامات کو آزاد کرانا اور عیسائیت کو منکروں کے پنجہ سے نجات دلانا تھا۔لیکن یہ بیان کردہ خیالات کیا تھے اور ان کے حصول میں جو ذرائع اختیار کئے گئے وہ دو بالکل مختلف چیزیں ہیں۔میں مغربی مصنفین کی کتابوں سے اقتباسات پیش کروں گا جنہوں نے صلیبی جنگوں کے دوران یورپی عیسائیوں کے غیر عیسائیانہ کردار کو تسلیم کیا ہے۔اٹھارویں صدی کے مؤرخ ڈیوڈ ہیوم (David Hume) کے نزدیک " صلیبی جنگیں ایک آفاقی جنون اور جنگجوؤوں کے غیر حقیقی اور رومانوی طیش کی وباء اور انسانی حماقت کا پائیدار کتبہ تھیں جو کسی بھی زمانہ یا قوم میں ظاہر ہوا ہوا" (صفحہ 28 )۔پھر لینارڈ ڈبلیو لیوی ( Leonard W۔Levy) پروفیسر آف ہیومینیٹی کٹئیر مانٹکالج امریکہ اپنی مقبول عام اور قابل نزاع کتاب خدا کے خلاف بغاوت (Treason against God ) میں لکھتا ہے کہ صلیبی جنگوں کا دور اس 25