سلمان رشدی بھوتوں کے آسیب میں — Page 187
اور کینہ پروری میں بدل جاتی ہے جو کہیں اور استعمال نہیں کی جاتی بلکہ اس کو محض اسلام کے پیروکاروں کے لئے مختص رکھا جاتا ہے۔نئی کتاب کا تناظر یہ ہے کہ دنیا کو دہشت گرد کی آنکھوں سے دیکھا جائے اور اس کوشش میں اس نے عمداً اپنے آپ کو اس دہشت گرد کا نشانہ بنانے کی سعی کی ہے۔جیسا کہ اس نے The Times اخبار میں لکھا کہ : " اگر تاریخ کے اس دور میں آپ ایک انشا پرداز ہیں تو آپ کو اس سے لڑنا ہے جو سامنے ہے ، اور یہی ہمارے عہد کا موضوع سخن ہے۔آپ ہر موڑ پر اس سے ٹکراتے ہیں، اگر یہ پسند نہیں تو پھر کتا بیں مت لکھو" ستمبر 2005ء)۔دراصل اس کو تنازعہ کا کیٹرالر گیا ہے اور اس نے اپنا کردار اس کا مقصد حیات بنالیا ہے۔ادی سٹینک ورسز' لکھنے کی اصل وجہ اپنے اوپر عائد کردہ جلا وطنی سے واپس آنے کے بعد رشدی نے اپنا نگا پن سپیشل برانچ کے ان خاص آدمیوں کے بغیر ضرور محسوس کیا ہوگا جو اس کی روزمرہ زندگی کا اب حصہ نہیں رہے تھے۔لیکن زیادہ عرصہ نہیں گزرا تھا کہ اس نے پھر سے شور و غل بر پا کرنا شروع کر دیا کہیں خدانخواستہ لوگ اس کو بھول تو نہیں گئے۔جس طرح قاتل موقعہ واردات کی طرف لا زما لوٹ کر آتا ہے اسی طرح رشدی سے رہا نہ گیا کہ وہ ان وجوہات کا ذکر کرے جن کی بناء پر اس نے بدنام زمانہ کتاب 'دی سٹینک ورسز' لکھی تھی۔قاتل کی مثال کی طرح بیچ رفتہ رفتہ باہر آنا شروع ہوا ، رشدی بار بار مداخلت کرتا رہا جیسا کہ اس کے ذرائع ابلاغ کو دئے گئے بیانات سے واضح ہوتا ہے۔سچ تو شروع ہی میں ظاہر وباہر ہو گیا تھا جب اس نے پہلا ناول' گریمس' Grimus تحریر کیا تھا جو تجارتی نقطہ نظر سے زبر دست نا کامی تھا۔اس نے اپنے نقادوں کو نہ تو معاف ہی کیا اور نہ ہی فراموش۔جب اس کے اگلے ناول 'ٹڈ نائٹس چلڈرن'Midnight's Children نے راتوں رات کامیابی کے قدم چومے تو ادیبوں کی برادری نے اس پر داد و دہش کے ڈونگرے برسا دئے یعنی اس کو ابو کر پرائز دیا گیا۔رشدی نے انعام قبول کرتے ہوئے اپنی تقریر میں ناول پر تنقید کرنے والوں کی وہ درگت بنائی کہ اس تقریر کو سب سے گھٹیا تقریر قرار دیا گیا۔خود غرض، خود بین، بینی باز ، ریا کار چاہے آپ اس کو کچھ بھی کہہ لیں لیکن یہ دراصل " بطور گستاخ ، غیر دلکش انسان 187)