سلمان رشدی بھوتوں کے آسیب میں — Page 177
کے ذریعہ اس کو کتنی طاقت حاصل ہو گئی تھی جس نے اس کو یہ کہنے پر مجبور کر دیا کہ : " یہ حیران کن بات تھی کہ خوف کسقد رجلدی مجھ سے دور ہو گیا" (صفحہ 162)۔پہلے سوچو پھر بولو اور کودنے سے پہلے سوچ لو ایسے محاورے ہیں جو شاید رشدی کی کھوپڑی میں کبھی نہیں آئے۔اس کا کتا بیں لکھنے کا نصب العین یہ رہا ہے کہ وہ شہرت کے پروں پراڑ تا رہے۔اسکے اپنے الفاظ میں : " میں شاندار نا کامی کو معمولی سی کامیابی پر ترجیح دیتا ہوں " یہ بات اس نے The Observer کی رپورٹر خاتون کیٹ کیلا وے (Kate Kellaway) سے The Autumn 1995) Waterstone Magazine) میں کہی تھی۔جب اس سے پوچھا گیا کہ کیا اس نے کبھی کوئی ایسی بات کہی تھی جس کو کہنے سے قبل اس نے بار بار سوچا؟ اس کا احمقانہ جواب وہ یہ دیتا ہے : اگر میں نے کبھی ایسا محسوس کیا تو میں لکھنا چھوڑ دوں گا۔میرے دل میں ناول کے فن کا اس قدر احترام ہے کہ میں کبھی اپنی تحریروں کا نکتہ چیں نہ بنوں گا۔اگر میں نے محسوس کیا کہ میں لکھنے سے ہچکچا رہا ہوں تو میں لکھنا بند کر دوں گا کیونکہ اعلیٰ ادب تلوار کی دھار کی طرح ہوتا ہے اور اگر آپ اس کے قریب جانے سے ڈرتے ہیں تو پھر آپ لکھنے کے اہل نہیں"۔۔وہ زندگی میں تحفظ و سلامتی کو پسند کرتا ہے لیکن افسانے میں وہ اس کو نا پسند کرتا ہے: "میں کبھی بھی اس قسم کا مصنف نہیں رہا ہوں جو جان بوجھ کر خود کو غیر محفوظ جگہ پر لے جائے"۔یہ کس قدرنا قابل یقین اور جھوٹا بیان ہے۔ایسے لگتا ہے کہ جلا وطنی میں رہ کر وہ اپنے حواس کھو بیٹھا ہے۔تمام حقائق اس بات کی طرف نشاندہی کرتے ہیں کہ رشدی نے جانتے ہوئے عمد خود کو اس ناگزیر صورت حال میں پھنسا لیا جس میں اس وقت گرفتار ہے۔اس نے صرف صورت حال کی نزاکت کو نظر انداز کیا تھا۔ایک اور بات جو اس نے کہی : " اگر انسان خطرہ مول نہ لے تو پھر انسان کوئی ہنگامہ خیز کام نہیں کر سکتا"۔اس اصول کا اطلاق اس کی تمام کتابوں پر ہوتا ہے بشمول The Moor's Last Sigh۔بظاہر اس چیز نے اس کو یہ حق دے دیا کہ وہ ہنگامہ کھڑا کرے چاہے اس کا انجام کچھ بھی ہو۔رشدی کے ناول سے جس شدید رد عمل کا اظہار ہندوستان میں ہوا ابلا شبہ وہ اس پر بہت خوش ہوگا خاص طور پر جس طرح ناول میں بال ٹھا کرے کو ایک ٹھگ کے روپ میں پیش کر کے اس کی 177)