سلمان رشدی بھوتوں کے آسیب میں

by Other Authors

Page 176 of 205

سلمان رشدی بھوتوں کے آسیب میں — Page 176

رشدی نے کھلے بندوں پبلک میں تواتر کے ساتھ آنا شروع کر دیا لیکن 7 ستمبر 1995ء کو جب وہ عوام کے سامنے آیا تو اس کا اعلان 1989 ء سے اس کی جلا وطنی کے بعد پہلی بار قبل از وقت کر دیا گیا۔اس نے ایک مباحثہ میں شرکت کی جس کا نام The Times / Dillons debate - "Writers Aganist the State تھا جو ویسٹ منسٹر سینٹرل ہال لندن میں اس کے ناول The Moor's Last Sigh کی اشاعت کے موقعہ پر منعقد ہوا تھا۔اس نے مباحثہ کے دوران کھلم کھلا اس امر کا اعلان کیا کہ قلم کاروں کا ایک مقصد یہ ہوتا ہے کہ وہ جان بوجھ کر تنازعہ پیدا کریں اور ایسی بات کہیں جو کہی نہیں جاسکتی : "ہم مذہبی راہنماؤں کو اس بات کی اجازت نہیں دیں گے کہ وہ ہمیں حکم دیں کہ کب ہم منہ بند کر دیں۔ہمارے فرضِ منصبی کا ایک حصہ یہ ہے کہ ہیجان اور ہلچل برپا کیا جائے کسی بھی سوسائٹی میں ہیجان پیدا کرنا ہی ہمارا حقیقی فرض منصبی ہے۔(The Times, September 08, 1995) در حقیقت یہی اس نے اپنے ناول The Moor's Last Sigh میں کیا ہے۔جب دنیا اس کو سکھ کا سانس لیتے دیکھنا چاہتی تھی عین اس وقت اس نے ایک اور ہنگامہ برپا کر دیا۔اس دفعہ اس نے ہندؤوں کو بھی ناراض کر دیا خاص طور پر شیو سینا کے صدر بال ٹھاکرے کو۔شیوسینا بھارت کا سب سے زیادہ تشدد پسند مذہبی گروہ تسلیم کیا جاتا ہے۔ناول ایک کارٹونسٹ کے غیر یقینی سیاسی لیڈر بن جانے کا قصہ بیان کرتا ہے۔لیڈر کی ٹھا کرے سے مشابہت جو مسلمانوں سے شدید نفرت رکھتا ہے ہر کسی کو معلوم ہے۔ناول کو غلطی سے اسلام کا دفاع کر نیوالا بھی نہیں سمجھنا چاہئے بلکہ یہ امر حقیقت سے کوسوں دور ہے۔ناول کے نفس مضمون کا تعلق مذہبی غیر رواداری سے ہے اور بنیادی طور پر رشدی کا نقطہ نگاہ بدلا نہیں بلکہ وہ ابھی تک اس سے متنفر ہے۔ایسے محسوس ہوتا ہے کہ پرانا رشدی دوبارہ ظہور پذیر ہو رہا ہے جو پہلے سے زیادہ پر عزم ہے گویا کہ وہ ضائع ہو نیوالے وقت کو واپس لا رہا ہو۔وقت گزرنے کے ساتھ لگتا ہے اپنے مدعا کے اظہار کا خوف ایک بار پھر اس آزادی کو دوبارہ لو دیتا ہے جس کی اس نے Midnight's Children میں شیخی بھگاری تھی۔مذکورہ ناول کے لکھنے کے بعد اس کو معلوم ہوا کہ ادب کے اظہار 176